افغانستان کے ساتھ رویے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، ایک وفد کا دورہ افغانستان نجی حیثیت میں ہے، دفتر خارجہ
پاکستان کا مؤقف
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ ایران کے تیل بردار جہازوں سے متعلق معاملات ایران اور متعلقہ حکومتوں کے درمیان ہیں اور پاکستان کا اس پر کوئی مخصوص مؤقف نہیں۔ دیگر ممالک کے ساتھ پیش آنے والے معاملات پر پاکستان براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی افریقا سے شکست پر پشاوری کھانا کھا کر دل کو تسلی دی: راشد خان
سفارتی رابطے
ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت کے ایران سمیت خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مسلسل سفارتی رابطے جاری ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ سے تین مرتبہ گفتگو ہو چکی ہے، جبکہ وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی رابطہ کر کے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم جلد سعودی عرب کے دورے پر جا رہے ہیں اور اس دوران خلیجی ممالک سے بھی قریبی رابطے برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مرد آہن عاصم منیر کا دورہ امریکا، بھارت سیخ پا
مختلف دارالحکومتوں کے درمیان رابطے
پاکستان خطے میں پل کا کردار ادا کرتے ہوئے مختلف دارالحکومتوں کے درمیان رابطوں کو فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام تنازعات کا حل خودمختاری کے احترام، بین الاقوامی قانون اور مکالمے کے ذریعے ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی کے مبینہ لاپتہ سینیٹر عبدالشکور پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے،کہاں غائب تھے؟صحافیوں کو بتا دیا
دفاعی رابطے
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ رابطوں کے بارے میں حتمی تصدیق نہیں کر سکتے، تاہم دفاعی اور عسکری حکام ایرانی ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔
افغانستان کی صورتحال
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ رویے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔ ایک وفد کا دورہ افغانستان نجی حیثیت میں ہے جبکہ افغانستان پر ایک مذاکراتی عمل جاری ہے۔ جلد چین کے نمائندہ خصوصی کی قیادت میں ایک وفد پاکستان پہنچے گا۔ افغان طالبان کی جانب سے حال ہی میں 50 سے زائد جگہوں پر جارحیت کی گئی۔








