افسوس کا مقام ہے ہم نے قانون کی حکمرانی کو مذاق بنا دیا مالداروں کے لیے کچھ غریب کے لیے کچھ۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 333
بعدازاں نواز شریف جنرل ضیاء الحق کی آنکھوں کا تارا بن گئے۔ دونوں بھائی یکے بعد دیگرے بارہا وزیر اعلیٰ پنجاب اور نواز شریف 3 دفعہ وزیراعظم پاکستان بنے۔ تینوں دفعہ برطرف ہوئے، ایک دفعہ اپنے محسن صدر پاکستان اسحاق خان سے پھڈا ڈال کر، دوسری دفعہ جنرل جہانگیر کرامت کو برطرف کرنے کے بعد تیسری بار کارگل ایشو پر آرمی چیف جنرل پرویزمشرف کو برطرف کرنے کی کوشش میں اور خود کو معزول اور گرفتار کروا بیٹھے۔
پاناما سکینڈل اور نااہلی
2017ء میں تیسری دفعہ پاناما سکینڈل کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے آرڈر پر زندگی بھر کے لیے نااہل قرار دئیے گئے۔ جاپان، تھائی لینڈ، فرانس اور دیگر ممالک میں بھی وزیر اعظم نکالے گئے۔ ان کے بھی خلاف مقدمے بنائے گئے۔ اْن کو سزائیں بھی عدالتوں سے دی گئیں۔
قانون کی حکمرانی کا مسئلہ
”قانون سب کے لیے ایک اور یکساں“ کے اصول کی خلاف ورزیاں ہمارے ہی ملک میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور اداروں نے قانون کی حکمرانی کو مذاق بنا دیا ہے، بڑے مالداروں کے لیے کچھ اور غریب کے لیے کچھ۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی قوم ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتی اور نہ ہی مہذب کہلانے کی حق دار ہے۔ صرف یہی ایک بات یہ طے کرنے کے لیے کافی ہے کہ ہمیں جو حکمران ملے ہیں وہ اخلاقی طور پر کتنے کمزور، غیر مہذب، ان پڑھ اور وژن سے عاری ہیں خواہ وہ یورپ امریکہ سے پڑھ کر کیوں نہ آئے ہوں۔
ذوالفقار علی بھٹو، فوج اور پاکستان
جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں ملک میں مارشل لاء لگا کر اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو معزول کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ اس لیے بھٹو خاندان اور جنرل ضیاء الحق کے درمیان ذاتی دشمنی پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا۔ اس دشمنی میں جنرل ضیاء الحق نے کونسل و کنونشن مسلم لیگی اور دائیں بازو کے حلقوں کو اپنے ساتھ شامل کیا تاکہ وہ بھٹو خاندان کے جیالوں اور بائیں بازو کے دانشوروں اور پیپلزپارٹی کا سیاسی طور پر مقابلہ کر سکیں۔
بھٹو کی سیاسی زندگی
بائیں بازو کے اشتراکی (کمیونسٹ سوشلسٹ) حلقے پیپلزپارٹی کے ساتھی بن گئے جنہوں نے سندھ و جنوبی پنجاب کے فیوڈل زمینداروں کی جماعت پیپلزپارٹی کو بائیں بازو کی نظریاتی جماعت کا نام دیا۔
فہمیدہ حلقوں کے نقطہ نظر کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو ایک فیوڈل لارڈ تھے۔ وہ نظریاتی تھے نہ انقلابی۔ وہ تو 1958ء میں میجر جنرل سکندر مرزا صدر مملکت پاکستان کو خطوط تحریر کرکے اور غیر جمہوری طرز عمل اختیار کرتے ہوئے ایوبی مارشل لاء میں شریک اقتدار ہونے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ جلد ہی جنرل ایوب خان نے میجر جنرل سکندر مرزا کو صدر مملکت کے عہدہ سے سبکدوش کرکے ملک سے باہر جانے پر مجبور کر دیا۔ بعد ازاں ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان اور ایوبی مارشل لاء کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے مرکزی وزیر برائے قدرتی وسائل اور وزیر خارجہ کے عہدوں پر 6 سال تک فائز رہے۔ جنرل ایوب خان کو ڈیڈی کہہ کر پکارتے تھے۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مقابلے میں ملک کے صدارتی انتخابی معرکے منعقدہ 1964ء میں دیگر وزراء کے برعکس آگے بڑھ کر ایوب خان کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر کام کیا جبکہ شیخ مجیب الرحمٰن ڈھاکہ میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے لیے بطور پولنگ ایجنٹ کام کر رہے تھے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








