صدر ٹرمپ کی جی سیون ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ورچوئل میٹنگ، ایران جنگ کے حوالے سے کیا مقاصد بتائے۔ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
ٹرمپ کی جی سیون رہنماؤں کے ساتھ ورچوئل میٹنگ
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کی، جس میں ایران جنگ کے حوالے سے اہم مقاصد پر بات چیت کی گئی۔ اس حوالے سے کچھ اہم تفصیلات سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ، پاکستان کے خلاف میچ سے قبل بھارت کا اہم کھلاڑی مبینہ طور پر زخمی ہو گیا
میٹنگ کی اہم باتیں
امریکی میڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ کی جی سیون ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ورچوئل میٹنگ میں شریک تین عہدیداروں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اس اجلاس میں کہا کہ ایران ہتھیار ڈالنے کے قریب ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں اب کوئی ایسا اعلیٰ عہدیدار باقی نہیں رہا جو ہتھیار ڈالنے کا اعلان کرسکے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی جنگ روکنے کے لیے خیرسگالی اور سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل، مزید تفصیلات کا انتظار کریں؛ ایرانی سفیر کا بیان
آبنائے ہرمز کی صورتحال
جیو نیوز کے مطابق عہدیداروں نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے، اور کمرشل جہازوں کو اپنی آپریشنز شروع کرنی چاہئیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ہمیں یہ کام مکمل کرنا ہوگا تاکہ پانچ سال بعد ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ نہ ہو، تاہم جنگ کے خاتمے سے متعلق اپنے مقاصد اور ٹائم لائن پر واضح مؤقف نہیں دیا۔
جی سیون رہنماؤں کی تجاویز
امریکی میڈیا کے مطابق جی سیون رہنماؤں نے ٹرمپ پر زور دیا کہ ایران جنگ کو فوراً ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو جلد محفوظ بنانے پر توجہ دیں۔








