ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایرانی بچے بھی خدا کے بچے ہیں
سینیٹر رافیل وارنوک کی جانب سے بیان
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ’’ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایرانی بچے بھی خدا کے بچے ہیں۔‘‘ امریکی سینیٹر رافیل وارنوک کھل کر بول پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے پر سلمان اکرم راجہ اور فیصل واوڈا کھل کر بول پڑے
ایران میں حملے کا شدید ردعمل
تفصیلات کے مطابق، امریکی سینیٹر رافیل وارنوک نے ایران میں سکول پر ہونے والے حملے میں 170 سے زائد طالبات کی شہادت پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ واقعہ انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا اور خوف و ہراس پیدا کرنے والا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے ڈھائی ارب روپے سے زائد کی ٹیکس چوری پکڑ لی
اخلاقی اصلاح کی ضرورت
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں رافیل وارنوک نے کہا کہ ’’وہ قوم جس کے رہنما بچوں کی موت کو، چاہے وہ کسی بھی سبب سے ہو، اس قدر آسانی سے نظر انداز کر دیں، اسے اخلاقی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ایرانی بچے بھی خدا کے بچے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: گوجرانوالہ: یونان کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلرز گرفتار
ذمہ داروں کے احتساب کی ضرورت
’’جنگ‘‘ نے غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر، جو ایک پادری بھی ہیں، انہوں نے اس سانحے پر ذمے داروں کے احتساب اور اس سے سبق سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل: اسلام آباد یونائیٹڈ کا لاہور قلندرز کے خلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ
امریکی محکمۂ دفاع کو خط
سینیٹر رافیل وارنوک ان 40 ڈیموکریٹک سینیٹرز میں شامل ہیں جنہوں نے امریکی محکمۂ دفاع کو خط لکھ کر ٹرمپ انتظامیہ سے ایران میں شہری ہلاکتوں کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔
ایران کا دعویٰ اور تحقیقاتی رپورٹ
ایران نے اس حملے کا الزام امریکی اور اسرائیلی افواج پر عائد کیا ہے، امریکی اخبار ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے مطابق فوجی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ میناب سکول پر حملہ امریکی فوج کی جانب سے ہدف کے تعین کی غلطی تھی۔








