سرکاری ملازمین کی طرح خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی کا فیصلہ
اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت خطے میں صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس ہوا ہے جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کیلئے پالیسی اقدامات اور حکومت کی جانب سے بچت اقدامات کے نفاذ پر پیش رفت و انکے اثرات پر گفتگو ہوئی.
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی افغان وزیرِ خارجہ امیر متقی سے ملاقات
بچت اقدامات کا استعمال
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی بچت اقدامات سے حاصل شدہ رقوم کو موجودہ حالات میں عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جائے گا، تمام کفایت شعاری کے اقدامات سے کی گئی بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح State owned enterprises اور حکومتی سرپرستی میں خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں سے درجہ بہ درجہ 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی جسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا.
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو ہماری لائیو معلومات مل رہی تھیں، ڈی جی ایم او رابطے میں انہوں نے کہا کہ ہمیں پتا ہے کہ آپ کا کون سا ہتھیار حملے کیلئے تیار ہے بھارتی ڈپٹی آرمی چیف
اجلاس کے اہم فیصلے
وزیراعظم ہاؤس کے میڈیا ونگ نے بتایاکہ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کارپوریشنز اور دیگر ادارے جن کے بورڈز میں حکومتی نمائندے موجود ہیں، وہ حکومتی نمائندے بورڈ میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے اور اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائےگا۔ وزیرِ اعظم نے دنیا بھر میں موجود تمام پاکستانی سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات کو انتہائی سادگی سے منانے کی ہدایت کی ہے جبکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتہ وار چار دنوں کا اطلاق نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے پرانے طریقہ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں گے.
یہ بھی پڑھیں: امریکی اتحادی سعودی عرب، اسرائیل کی بجائے تہران کے نزدیک کیوں جا رہے ہیں؟
سرکاری امور میں کٹوتی
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ دو ماہ تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کئے جانے کے فیصلے کے حوالے سے 3rd party audit کروایا جائے گا۔ اجلاس کو حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور باقی تمام سرکاری خریداریوں پر پابندی پر عملدرآمد پر بھی بریفنگ دی گئی.
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے چیئرمین سینٹ و سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا
کابینہ ارکان کی تنخواہوں کی بچت
اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ ارکان، وزراء مشیران اور معاون خصوصی کی تنخواہیں کو بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر احتجاج کیس؛ پی ٹی آئی کارکنان کی جرمانے و دیگر آرڈرز کیخلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا گیا
بیرونی دوروں پر پابندی
وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر بھی مکمل پابندی اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے کے اطلاق پر بھی اجلاس کو آگاہی دی گئی.
یہ بھی پڑھیں: یاسر حسین نے نادیہ خان کو آڑے ہاتھوں لے لیا
عمل درآمد اور نگرانی
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری افسران، وزراء، وزرا مملکت اور معاون خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی پر عائد رہے گی اور ہدایت کی کہ ان تمام سادگی اور کفایت شعاری کے احکامات و اقدامات پر عمل درآمد اور نگرانی متعلقہ سیکریٹریز خود کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے.
شرکت کرنے والے اعلی حکام
اجلاس میں وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.








