سرکاری اور خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد کٹوتی ہوگی، وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ
وزیر اعظم کا کفایت شعاری کا اعلان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کفایت شعاری سے ہونے والی بچت عوامی ریلیف پر خرچ ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: جمہوریہ پرتگال کی اسمبلی میں “غلط معلومات اور جمہوریت” کے موضوع پر کانفرنس کا انعقاد
اجلاس کا مقصد
خطے کی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم قیمتوں کے استحکام اور حکومتی بچت اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں طے پایا کہ کفایت شعاری سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف پر خرچ ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی میزائل درستگی سے ہدف کو نشانہ بنا رہے ہیں، کیا چین میزائل گائیڈنس سسٹم کے ذریعے مدد فراہم کر رہا ہے؟ تجزیہ کار ماریو نوفال کو سوال
تنخواہوں میں کٹوتی
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری اور خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد کٹوتی ہوگی۔ کارپوریشنز کے بورڈز میں شامل حکومتی نمائندے اب شرکت فیس نہیں لیں گے، جبکہ تمام سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات سادگی سے منانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے باضابطہ معافی مانگ لی
ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے
وزیراعظم نے ہدایات جاری کیں کہ ایف بی آر اور قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ 2 ماہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی اور 60 فیصد گاڑیاں گراؤنڈ کرنے کے فیصلے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا اور نئی خریداری پر پابندی رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا دورہ گلگت بلتستان، گارڈ آف آنر پیش، یادگار شہداءپر حاضری
کابینہ کے ارکان کی تنخواہیں
اسی طرح کابینہ ارکان، وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کی تنخواہیں عوامی فلاح کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ ان کے غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اب آن لائن میٹنگز کو ترجیح دی جائے گی تاکہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
رپورٹنگ اور نگرانی
وزیرِ اعظم نے متعلقہ سیکریٹریز کو ان کفایت شعاری کے احکامات کی نگرانی اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، بلال اظہر کیانی اور ایف بی آر چیئرمین شریک ہوئے۔








