خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک اپنے اختلافات ختم کر کے ’نیٹو طرز کے ایک مؤثر فوجی و سکیورٹی اتحاد‘ قائم کریں، قطر کے سابق وزیرِ اعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی کی تجویز پر بحث زور پکڑگئی۔

قطر کے سابق وزیرِ اعظم کی تجویز

دوحہ (ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال میں قطر کے سابق وزیرِ اعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی کی ایک تجویز کے بعد ایک بار پھر عرب اسلامی سیاسی و فوجی اتحاد کے قیام کی بحث زور پکڑ رہی ہے، یہ بات بی بی سی اردو نے بتائی۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کی محمد ایاز شہید کی قبر پر حاضری، پھولوں کی چادر بھی چڑھائی

نیٹو طرز کا اتحاد قائم کرنے کی تجویز

حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو فوری طور پر اپنے اختلافات ختم کر کے ’نیٹو طرز کے ایک مؤثر فوجی و سکیورٹی اتحاد‘ قائم کرنے کی تجویز دی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب مرکزی کردار ادا کرے اور پاکستان و ترکی کے ساتھ قریبی تعاون موجود ہو۔‘

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا؟

موجودہ جنگ کے اثرات

رپورٹ کے مطابق حمد بن جاسم بن جبر کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خطے کی موجودہ جنگ بالآخر ختم ہو جائے گی لیکن اس سے سبق اور عبرت حاصل کرنا ضروری ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی، آج ملک بھر میں ریلیاں اور جلوس نکالے جائیں گے

خلیجی تعاون کونسل کی یکجہتی

انھوں نے ایکس پر تجویز دی کہ ’خلیجی تعاون کونسل کو اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ایک مؤثر اور حقیقی فوجی و سکیورٹی اتحاد قائم کرنا ہو گا جیسا کہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) ہے۔‘ انھوں تجویز کیا کہ اس میں ’سعودی عرب کو سب سے اہم کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ وہ سب سے بڑی ریاست ہے، جنگ کے خاتمے کا انتظار کیے بغیر تیاری شروع کی جائے اور اختلافات ختم کیے جائیں تاکہ عوام کو محفوظ رکھا جا سکے، پابندیوں کے باوجود ایران نے میزائل صنعت قائم کی اور افسوس کہ انھی میزائلوں سے خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں: لیئم پین کا سنیپ چیٹ پر آخری پیغام اور پھر ہوٹل کی بالکونی سے گر کر موت

اسرائیل کی ذمہ داری

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس جنگ کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے جس نے خطے میں فوجی، اقتصادی اور سیاسی برتری حاصل کرنے کے لیے شعلے بھڑکائے۔‘

متحدہ حکمت عملی کی ضرورت

حمد بن جاسم نے تجویز دی کہ ’خلیجی ریاستیں اسرائیل اور ایران دونوں کے خلاف متحد ہوں، ایران پڑوسی ہے اس لیے اس کے ساتھ بات چیت کے لیے واضح حکمتِ عملی ضروری ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات حسنِ ہمسائیگی اور فلسطینی حقوق کے تحفظ کی بنیاد پر ہونے چاہییں، کونسل کی ریاستوں پر حملوں کے باوجود کئی عرب ریاستوں کی خاموشی باعثِ حیرت ہے اور یہی صورتحال خلیجی ممالک کو فوری طور پر ایک فوجی، سلامتی اور جغرافیائی اتحاد قائم کرنے پر مجبور کرتی ہے، جو ترکی اور پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھے، لیکن اپنے بیٹوں کے بازوؤں پر بھی انحصار کرے۔

Categories: عرب دنیا

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...