وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، اہم امور پر تفصیلی بریفنگ
اجلاس کا آغاز
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں امن و امان، افغان مہاجرین کی واپسی، حوالہ ہنڈی اور بھتہ خوری، سمگلنگ کے خاتمے سمیت اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مداحوں کے مطابق یہاں سب کچھ ممکن ہے، بابر سے شادی کے سوال پر ہانیہ کا جواب
اجلاس میں اہم شخصیات کی شرکت
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 10 سالہ بچے کا گینگ ریپ کرنے والے تین ملزمان گرفتار
بریفیگ کی تفصیلات
چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی این سی سی آئی اور آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری نے اجلاس کو متعلقہ امور پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے 2 ونگز پر مشتمل تقریباً 3 ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں مسیحی برادری کے لیے 2 روزہ تعطیلات کا اعلان
ایف آئی اے کی فعال سازی
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بلوچستان میں ایف آئی اے کو مزید فعال بنایا جائے گا اور تمام خالی اسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی کی جائے گی۔ اجلاس میں ریاست مخالف سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کو مؤثر بنانے پر اتفاق کیا گیا اور ریاست کے خلاف سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپیگنڈوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے نہیں پتہ کس کو کتنا نقصان ہوا، یہ صرف اسلام آباد کے ڈرائنگ رومزکی گفتگو تھی، مفتاح اسماعیل کی وضاحت
حکومت کا تعاون
اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ بلوچستان کے حالات سے مکمل آگاہ ہیں اور امن کے قیام کے لیے ہر ممکن معاونت کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم اس ملک کو تمہارے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، تم خود کو حکمران کہتے ہو، میں کہتا ہوں تم حکمران نہیں ہو، تم دھاندلی کے ذریعے آئے ہو،مولانا فضل الرحمان
وزیر اعلیٰ کا عزم
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوت اور عزم کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ روز اول واضح کرچکے کہ ریاست کی عمل داری ہر صورت یقینی بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کامرانی ٹیسوری کیا اپنے بیان پر گورنر کے عہدے سے فارغ ہو سکتے ہیں؟ اینکرپرسن عدنان حیدر کے سوال پر سینئر صحافی نصرت جاوید نے تجزیہ پیش کردیا۔
امن کی بحالی کی کوششیں
آج بلوچستان کی کوئی شاہراہ احتجاج کے نام پر بند نہیں ہوتی، بحالی امن کے لیے وفاقی حکومت کی معاونت کو سراہتے ہیں۔
قومی یکجہتی کا عزم
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی یکجہتی سے دہشت گردی کو شکست دیں گے۔








