بیوی بچوں کو گاؤں چھوڑ آیا، جنگ میں ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ ڈالنے کا سوچنے لگا، ایک باغ کی دیوار کے ساتھ ’’رانی توپ‘‘ نصب کر دی گئی، چلتی تو درو دیوار ہلا دیتی۔
مصنف کی کہانی
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 88
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں ریلوے کی 8.5 ہزار ایکڑ زمین پر نجی ادارے اور افراد قابض
گاؤں چھوڑنے کی ضرورت
میں نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے بیوی بچّوں کو گاڑی میں بٹھایا اور گاؤں ”کمال پور“ نزد شاہ کوٹ چھوڑ آیا۔ پھر میں گھر میں جنگ میں ”حصہ بقدر جثُّہ“ ڈالنے کا سوچنے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں صاحبزادہ فرحان نے اہم اعزاز حاصل کرلیا
دشمن کی پیش قدمی
واہگہ بارڈ کی طرف سے انڈین آرمی رات کی تاریکی میں حملہ کر کے وہاں موجود گنتی کی سپاہ کو روندتی ہوئی لاہور کی طرف پیش قدمی کرتے آگے دائیں بائیں سے کچھ پوسٹوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرتے بی آر بی نہر کی طرف رواں دواں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اس ایک وجہ سے بل گیٹس دیوالیہ ہوسکتے ہیں، ایلون مسک نے بڑا دعویٰ کردیا
ہندوستانی میڈیا کی پیش گوئی
ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے یہ خبر نشر کرنی شروع کردی کہ ہندوستانی جنرل لاہور میں داخل ہو کر وہاں جمخانہ کلب میں جا کر شراب کے جام لنڈھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کوپاکستانی دریاؤں پرقائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیدیا
پاکستانی آرمی کی تیاری
اُدھر پاکستانی آرمی چاق و چوبند تھی۔ غالباً بی آر بی نہر پار کر کے دشمن کا مقابلہ کرنا جنگی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں تھا، لہٰذا پاکستانی آرمی نے فوراً جی ٹی روڈ پر واقع بی آر بی نہر کا پل توڑ دیا اور پھر بعد میں اُدھر ہڈیارہ کی طرف واقع بی آر بی نہرپر بھی پل توڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جنگی جنون کے خلاف پاکستانی قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے: چوہدری شجاعت
گولہ باری کا آغاز
اِس طرح 2 فوجوں کے درمیان نہر کے آر پار سے گولہ باری کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ دن کی روشنی میں لاہور کے باسی کئی جگہ پر بندوقیں تانے بارڈر کی طرف حملہ آوروں سے نبرد آزما ہونے کے لیے لپکے۔
یہ بھی پڑھیں: دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کیلئے 2 چھٹیوں کا اعلان
عوام کی مدد
لیکن پاکستانی آرمی کے جوانوں نے انہیں سمجھا بجھا کر واپس کیا۔ لوگوں کا ٹولیوں کی شکل میں بارڈر کی طرف آرمی کی مدد کے لیے بندوقیں اُٹھا کر جانے کا سلسلہ چلتا ہی رہا اور بعض جگہ پچھلے مورچوں پر کچھ اضافی کاموں پر کچھ لوگوں کو لگایا بھی گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سموآ کا دورہ، برطانیہ کے بادشاہ چارلس کو روایتی نشہ آور قہوہ پلادیا گیا
توحیدپارک کے حالات
میری رہائش اُن دنوں ”توحیدپارک“ میں تھی جو مغل پورہ گنج کی ایک ذیلی آبادی ہے۔ جب ”آرمی کانوائے“ شالیمار لنک روڈ سے گذر کر بارڈر کی طرف جاتے تھے تو ملحقہ آبادیوں کے مکین گھروں سے نکل کر شالیمار لنک روڈ پر جوانوں کا استقبال پُر جوش نعرو ں سے کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا
جوانوں کے استقبال کا منظر
ہم بھی اور بہت سے دوسرے لوگ تو کھانے پینے کا سامان جیسے بسکٹ کے ڈبے بھی اُن کی نذر کرتے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے ہر طرف گونجتے رہتے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 11 میں کتنے میچز کھیلے جائیں گے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
رانی توپ کی کہانی
میری آبادی ”توحید پارک“ گنج مغل پورہ سے 1/2 کلو میٹر سے بھی کم فاصلہ پر واہگہ بارڈر کی طرف ایک باغ کی دیوار کے ساتھ ”رانی توپ“ نصب کر دی گئی۔ جب چلتی تو درو دیوار ہلا دیتی اور روشنی کا ایک سیل رواں آجاتا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس معاون کا کینیا کا خیر سگالی دورہ، کمانڈنگ آفیسر کی کینیا کے اعلیٰ سول و عسکری حکام سے اہم ملاقاتیں
رات کی گولہ باری میں رفاقت
ہم اُن دنوں ہمارے دوست ”امین جان“ کے گھر پانچ چھ دوست رات کو اکٹھے ہوجاتے تھے کیونکہ وہ گھر خالی تھا۔ اُس کی فیملی پہلے ہی صوبہ سرحد میں اپنے آبائی گاؤں کو جا چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اب کاروبار تھا نہ والد صاحب کی تیمار داری کی ذمہ داری، بالکل ہی فارغ ہوگیا، تنگی ترشی کا ایسا نقشہ کھینچا گیاکہ گاؤں جا کر زمین اور مکان فروخت کر دیا
خوف اور خواب
رات کو جو توپوں کی گولہ باری رُکی تو سونے کا سوچنے لگے۔ ایک چارپائی پر دو دو نوجوان سویا کرتے تھے کیونکہ وہاں چارپائیاں ہی اتنی تھیں۔ ایک چارپائی پر جب امین جان اور محمد علی سونے لگے تو اتفاقاً محمد علی چارپائی کے اُس طرف لیٹ گیا جدھر شہر لاہور واقع ہے یعنی مغرب کی طرف۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیکر آفر کی لیکن عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، رانا ثنااللہ
دوستانہ بحث
امین جان بضد ہوگیا کہ میں تو مشرق کی طرف یعنی واہگہ کی طرف نہیں لیٹوں گا کہ اُدھر سے جب دشمن کے گولے آئیں گے تو پہلے مجھے لگیں گے۔ لہٰذا دوستوں نے اُسے مغرب کی طرف جگہ دلا دی گو کہ اُس کا یہ خوف بے وجہ تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ
اس کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








