بیوی بچوں کو گاؤں چھوڑ آیا، جنگ میں ’’حصہ بقدر جثہ‘‘ ڈالنے کا سوچنے لگا، ایک باغ کی دیوار کے ساتھ ’’رانی توپ‘‘ نصب کر دی گئی، چلتی تو درو دیوار ہلا دیتی۔
مصنف کی کہانی
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 88
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا
گاؤں چھوڑنے کی ضرورت
میں نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے بیوی بچّوں کو گاڑی میں بٹھایا اور گاؤں ”کمال پور“ نزد شاہ کوٹ چھوڑ آیا۔ پھر میں گھر میں جنگ میں ”حصہ بقدر جثُّہ“ ڈالنے کا سوچنے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: اندھوں میں کانا راجہ والی بات، میری حماقت نے سب کا بھرم رکھ لیا، کبھی بسیں وقت مقررہ پر منزل پر پہنچا کرتی تھیں، سفر بھی نسبتاً سستا اور آرام دہ ہوتا
دشمن کی پیش قدمی
واہگہ بارڈ کی طرف سے انڈین آرمی رات کی تاریکی میں حملہ کر کے وہاں موجود گنتی کی سپاہ کو روندتی ہوئی لاہور کی طرف پیش قدمی کرتے آگے دائیں بائیں سے کچھ پوسٹوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرتے بی آر بی نہر کی طرف رواں دواں تھی۔
یہ بھی پڑھیں: نہروں کا معاملہ: کراچی بار کی سٹی کورٹ میں ہڑتال، داخلی دروازے بند ، عدالتی کارروائی معطل
ہندوستانی میڈیا کی پیش گوئی
ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے یہ خبر نشر کرنی شروع کردی کہ ہندوستانی جنرل لاہور میں داخل ہو کر وہاں جمخانہ کلب میں جا کر شراب کے جام لنڈھائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر کم سن بچوں کو نیا ہدف بنا رہے ہیں : وزیر داخلہ سندھ
پاکستانی آرمی کی تیاری
اُدھر پاکستانی آرمی چاق و چوبند تھی۔ غالباً بی آر بی نہر پار کر کے دشمن کا مقابلہ کرنا جنگی نقطہ نظر سے ٹھیک نہیں تھا، لہٰذا پاکستانی آرمی نے فوراً جی ٹی روڈ پر واقع بی آر بی نہر کا پل توڑ دیا اور پھر بعد میں اُدھر ہڈیارہ کی طرف واقع بی آر بی نہرپر بھی پل توڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی افغان وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقات، سکیورٹی اور ٹرانزٹ ٹریڈ پر تبادلہ خیال
گولہ باری کا آغاز
اِس طرح 2 فوجوں کے درمیان نہر کے آر پار سے گولہ باری کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ دن کی روشنی میں لاہور کے باسی کئی جگہ پر بندوقیں تانے بارڈر کی طرف حملہ آوروں سے نبرد آزما ہونے کے لیے لپکے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب سیف جیل منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز، 5 ارب روپے کی لاگت سے جدید کیمرے اور باڈی سکینرز نصب ہوں گے۔
عوام کی مدد
لیکن پاکستانی آرمی کے جوانوں نے انہیں سمجھا بجھا کر واپس کیا۔ لوگوں کا ٹولیوں کی شکل میں بارڈر کی طرف آرمی کی مدد کے لیے بندوقیں اُٹھا کر جانے کا سلسلہ چلتا ہی رہا اور بعض جگہ پچھلے مورچوں پر کچھ اضافی کاموں پر کچھ لوگوں کو لگایا بھی گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا ایران کو سخت الٹی میٹم، حملے نہ رکے تو جواب کیلئے تیار رہو
توحیدپارک کے حالات
میری رہائش اُن دنوں ”توحیدپارک“ میں تھی جو مغل پورہ گنج کی ایک ذیلی آبادی ہے۔ جب ”آرمی کانوائے“ شالیمار لنک روڈ سے گذر کر بارڈر کی طرف جاتے تھے تو ملحقہ آبادیوں کے مکین گھروں سے نکل کر شالیمار لنک روڈ پر جوانوں کا استقبال پُر جوش نعرو ں سے کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی حد میں رہو،، کامران اکمل نے بابر اعظم کے والد کو کرارا جواب دے دیا
جوانوں کے استقبال کا منظر
ہم بھی اور بہت سے دوسرے لوگ تو کھانے پینے کا سامان جیسے بسکٹ کے ڈبے بھی اُن کی نذر کرتے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے ہر طرف گونجتے رہتے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر مسلم دنیا متحد نہ ہوئی تو سب کی باری آئے گی: خواجہ آصف
رانی توپ کی کہانی
میری آبادی ”توحید پارک“ گنج مغل پورہ سے 1/2 کلو میٹر سے بھی کم فاصلہ پر واہگہ بارڈر کی طرف ایک باغ کی دیوار کے ساتھ ”رانی توپ“ نصب کر دی گئی۔ جب چلتی تو درو دیوار ہلا دیتی اور روشنی کا ایک سیل رواں آجاتا۔
یہ بھی پڑھیں: بند کمروں میں کیے گئے فیصلے صوبے پر مسلط کیے گئے تو تمام اسٹیک ہولڈرز میں تشویش پیدا ہوگی، ایک فرد یا ایک ادارہ زور زبردستی صوبے پر فیصلے مسلط نہیں کر سکتا، سہیل آفریدی
رات کی گولہ باری میں رفاقت
ہم اُن دنوں ہمارے دوست ”امین جان“ کے گھر پانچ چھ دوست رات کو اکٹھے ہوجاتے تھے کیونکہ وہ گھر خالی تھا۔ اُس کی فیملی پہلے ہی صوبہ سرحد میں اپنے آبائی گاؤں کو جا چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی حملے کے خطرے میں شدت، وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کو فون کیا
خوف اور خواب
رات کو جو توپوں کی گولہ باری رُکی تو سونے کا سوچنے لگے۔ ایک چارپائی پر دو دو نوجوان سویا کرتے تھے کیونکہ وہاں چارپائیاں ہی اتنی تھیں۔ ایک چارپائی پر جب امین جان اور محمد علی سونے لگے تو اتفاقاً محمد علی چارپائی کے اُس طرف لیٹ گیا جدھر شہر لاہور واقع ہے یعنی مغرب کی طرف۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں اسٹروک مینجمنٹ سنٹرز پوری طرح فعال، فالج کے 700 سے زائد مریض صحت یاب، ہر شہری کی صحت ہماری ذمہ داری ہے: وزیراعلیٰ مریم نواز
دوستانہ بحث
امین جان بضد ہوگیا کہ میں تو مشرق کی طرف یعنی واہگہ کی طرف نہیں لیٹوں گا کہ اُدھر سے جب دشمن کے گولے آئیں گے تو پہلے مجھے لگیں گے۔ لہٰذا دوستوں نے اُسے مغرب کی طرف جگہ دلا دی گو کہ اُس کا یہ خوف بے وجہ تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ
اس کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








