پنجاب حکومت کا بڑا اقدام، غیر قانونی اسلحہ خاتمے کیلئے نیا قانون تیار، سی سی ڈی کو ذمہ داری دینے کا فیصلہ
پنجاب میں غیر قانونی اسلحے کے خاتمے کیلئے قانون کا مسودہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے ایک اہم اقدام کیا ہے، اور اس کے لئے نیا قانون تیار کر لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ سے دستبرداری کی خبروں پر بھارتی بورڈ کا بیان سامنے آگیا
کمیٹی کی ذمہ داری
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کے لیے سی سی ڈی کو ذمہ داری تفویض کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ داخلہ نے پنجاب سرنڈر آف الیسٹ آرمز ایکٹ 2026 کا بل تیار کر لیا ہے، جو جلد پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول بھٹو کی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
بل کی اہم تجاویز
بل کے متن میں یہ شامل ہے کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو 15 دن کی مہلت دی جائے گی کہ وہ اسلحہ جمع کرائیں۔ اس مدت میں اسلحہ جمع نہ کرانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، غیر قانونی اسلحہ رکھنے کی صورت میں عمر قید اور جائیداد ضبطی کی سزا کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان: طوفانی بارشیں، آسمانی بجلی اور دیوارگرنے سے بچی سمیت 3 جاں بحق
رضاکارانہ اسلحہ جمع کرانے والے
بل کے مطابق، رضاکارانہ طور پر اسلحہ جمع کرانے والوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ بیرون ملک جانے والے افراد کو واپسی کے 14 دن کے اندر اسلحہ جمع کرانے کی اجازت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: ورکشاپ مالک نے 12 سالہ ملازم کو آگ لگادی
لائسنس کی تجدید کی شرائط
ایکسپائر شدہ لائسنس رکھنے والوں کو تجدید کا آخری موقع فراہم کیا جائے گا، بصورت دیگر اسلحہ پولیس کے حوالے کرنا لازمی ہوگا۔ اسلحہ جمع کرانے پر باقاعدہ رسید اور ریکارڈ رکھنے کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں لاک ماسٹر کے گھر کا تین ماہ کا بل ایک لاکھ روپے سے بھی زائد ہوگیا، پھوٹ پڑا
سرچ اینڈ ریکوری آپریشنز
غیر قانونی اسلحہ کی ضبطگی اور تلف کرنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ صوبے میں سرچ اینڈ ریکوری آپریشنز کے لیے سی سی ڈی خصوصی مہم شروع کرے گی۔ اس کے علاوہ، اسلحہ لائسنس ہولڈرز کی جانچ پڑتال کے لیے ایک نیا نظام بھی متعارف کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کل ہم یوم سیاہ اور یوم سوگ منائیں گے، اس کے بعد اگلے ہفتے ملک بھر میں احتجاج کی کال دیں گے، علامہ راجہ ناصر عباس
خصوصی عدالتیں اور مقدمات کا فیصلہ
ہر ضلع میں اسلحہ کے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جن کو اسلحہ سے متعلق مقدمات کا فیصلہ 45 دن کے اندر کرنا ہوگا۔ مقدمات کی روزانہ بنیاد پر سماعت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے جنگ رکوانے کیلئے ثالثی کی کوششیں شروع کر دیں
جھوٹی اطلاع پر جرمانہ
جھوٹی اطلاع دینے والوں پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو غیر قانونی اسلحہ قرار دینے کا اختیار حاصل ہوگا، جبکہ قدیم اسلحہ کو اینٹیک قرار دے کر صرف نمائش کے لیے رکھنے کی اجازت ہوگی۔
نئے قانون کی جگہ پرانے قانون کا خاتمہ
بل کے مطابق، قانون پر عملدرآمد کے لیے ایک خصوصی اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز ہے۔ یہ نیا قانون 1991 کے پرانے اسلحہ سرنڈر قانون کی جگہ لے گا، اور محکمہ داخلہ پنجاب نے اس بل کو تیار کرکے محکمہ قانون کو بھجوا دیا ہے۔








