ثنا یوسف قتل کیس، مقتولہ کے والد نے بیان ریکارڈ کروا دیا
اسلام آباد میں ثناء یوسف کے قتل کا مقدمہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف قتل کیس میں مقتولہ کے والد نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد دھماکے پر روسی صدر پیوٹن کے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو تعزیتی خطوط
عدالتی سماعت
روزنامہ جنگ کے مطابق، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف کے قتل کیس کی سماعت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کا پنجاب لوکل گورنمنٹ بل چیلنج کرنے کا فیصلہ
مقتولہ کے والد کا بیان
مقتولہ کے والد نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اہلیہ، بیٹے اور بیٹی ثناء یوسف کے ساتھ سیکٹر جی 13 میں رہائش پزیر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اُن کی بیٹی ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس: ملزم کا مزید 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
واقعہ کی تفصیلات
انہوں نے مزید بتایا کہ وقوعے کے دن وہ کام کی وجہ سے گھر سے باہر گئے تھے۔ شام کو اُن کی اہلیہ نے فون پر بتایا کہ ایک نامعلوم شخص نے بیٹی کو گولی مار دی ہے۔ بیٹی کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملے نے بتایا کہ اس کی موت ہو چکی ہے۔
پولیس کو بیان ریکارڈ کروانا
ثناء کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹی کی ڈیڈ باڈی پمز منتقل کی گئی، جس کے بعد انہوں نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ بیٹی کے موبائل فون بھی پولیس کے حوالے کیے، اور پولیس نے جائے وقوع کی رپورٹ بھی بنائی۔








