ایران کے تیل ذخائر پر ہونیوالی بمباری سے کیا پاکستان میں ماحول کو کوئی خطرہ ہے؟ ترجمان محکمہ موسمیات نے بتا دیا
ایران کے تیل ذخائر پر بمباری اور پاکستان کا ماحول
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے تیل ذخائر پر ہونیوالی بمباری سے کیا پاکستان میں ماحول کو کوئی خطرہ ہے؟ ترجمان محکمہ موسمیات نے بتا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: غیر ذمہ دار بھارتی حکمرانوں نے اپنی افواج پر وہ بوجھ ڈالا جو وہ اٹھانے کے قابل نہیں تھے: سابق پاکستانی جنرل
محکمہ موسمیات کی وضاحت
تفصیلات کے مطابق ترجمان محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ایران کے تیل ذخائر پر ہونے والی بمباری سے پاکستان کا ماحول فی الحال کسی بھی قسم کے خطرے سے باہر ہے۔ جیو نیوز کے مطابق ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیر نے بتایا ہے کہ محکمہ موسمیات پاکستان، ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ڈیٹا کے تبادلے کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ایران سے جنگ طول پکڑتی ہے تو۔۔۔؟ برطانوی ماہرین نے متنبہ کر دیا
آلودگی کا کوئی ثبوت نہیں
ایرانی ڈیٹا کے مطابق بالائی فضاء میں خطرناک آلودہ ذرات یا زہریلی گیسوں کے آثار نہیں ملے، اب تک کی مانیٹرنگ میں کسی بھی قسم کی تابکاری کے ثبوت نہیں ملے۔
یہ بھی پڑھیں: مرحوم شہری نادرا ریکارڈ میں زندہ اور کنوارہ قرار، بچوں کو ب فارم کے حصول میں مشکلات
متعلقہ خطرات
ترجمان محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اگر تابکاری کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ہواؤں کے رخ کے مطابق اثرات ترکمانستان کی طرف جائیں گے، جبکہ بمباری ایران کے شمال مغربی حصے میں ہو رہی ہے، پاکستان کا بارڈر ایران کے جنوبی حصے سے ملتا ہے جہاں حالات معمول کے مطابق ہیں۔
ماحولیاتی صورتحال
اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے تیل ذخائر پر بمباری کے نتیجے میں ایران کو سنگین ماحولیاتی تباہی کا سامنا ہے اور تہران اور گردونواح میں ہونے والی "بلیک تیزابی بارش" کو اس کی ایک علامت کہا گیا تھا۔








