ایران کے تیل ذخائر پر ہونیوالی بمباری سے کیا پاکستان میں ماحول کو کوئی خطرہ ہے؟ ترجمان محکمہ موسمیات نے بتا دیا
ایران کے تیل ذخائر پر بمباری اور پاکستان کا ماحول
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے تیل ذخائر پر ہونیوالی بمباری سے کیا پاکستان میں ماحول کو کوئی خطرہ ہے؟ ترجمان محکمہ موسمیات نے بتا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جیل حکام نے عمران خان کے لیے سردیوں کا سامان وصول کرنے سے انکار کردیا ہے، سمیع ابراہیم
محکمہ موسمیات کی وضاحت
تفصیلات کے مطابق ترجمان محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ ایران کے تیل ذخائر پر ہونے والی بمباری سے پاکستان کا ماحول فی الحال کسی بھی قسم کے خطرے سے باہر ہے۔ جیو نیوز کے مطابق ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیر نے بتایا ہے کہ محکمہ موسمیات پاکستان، ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور ڈیٹا کے تبادلے کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کسی شخص یا ادارے نہیں پاکستان کا نقصان چاہتے ہیں: شرجیل میمن
آلودگی کا کوئی ثبوت نہیں
ایرانی ڈیٹا کے مطابق بالائی فضاء میں خطرناک آلودہ ذرات یا زہریلی گیسوں کے آثار نہیں ملے، اب تک کی مانیٹرنگ میں کسی بھی قسم کی تابکاری کے ثبوت نہیں ملے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا 27ویں ترمیم کے خلاف 14 نومبر کو حیدر آباد سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان
متعلقہ خطرات
ترجمان محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ اگر تابکاری کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ہواؤں کے رخ کے مطابق اثرات ترکمانستان کی طرف جائیں گے، جبکہ بمباری ایران کے شمال مغربی حصے میں ہو رہی ہے، پاکستان کا بارڈر ایران کے جنوبی حصے سے ملتا ہے جہاں حالات معمول کے مطابق ہیں۔
ماحولیاتی صورتحال
اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے تیل ذخائر پر بمباری کے نتیجے میں ایران کو سنگین ماحولیاتی تباہی کا سامنا ہے اور تہران اور گردونواح میں ہونے والی "بلیک تیزابی بارش" کو اس کی ایک علامت کہا گیا تھا۔








