علاقائی صورت حال کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے،وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان میں اتفاق
خطے کی کشیدگی پر مذاکرات کی ضرورت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطے میں جاری کشیدگی اور خاص طور پر ترکیے پر میزائل حملوں کی مذمت کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی صورت حال کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز
عید کی مبارک باد کا تبادلہ
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے عیدالفطر کے موقع پر ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور انہیں عید کی مبارک باد دی۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا ٹی ٹوئنٹی، پاکستان کی آسٹریلیا کے خلاف پہلی وکٹ صفر پر گر گئی
رمضان کی روحانی بات چیت
بیان میں کہا گیا کہ انتہائی گرم جوش گفتگو کے دوران وزیراعظم نے صدر اردوان، ان کے اہل خانہ اور برادر ترک عوام کو عید کی دلی مبارک باد پیش کی۔ صدر اردوان نے بھی پرتپاک جواب دیا اور دونوں رہنماؤں نے امت مسلمہ کے لیے امن، اتحاد اور خوش حالی کی دعا کی۔
یہ بھی پڑھیں: جوئے کی ایپ کو پروموٹ کرنے کا معاملہ، یوٹیوبر سعدالرحمان المعروف ڈکی بھائی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع
پاکستان کی حمایت
وزیراعظم نے خطے میں جاری کشیدگی اور ترکیے پر میزائل حملوں کی مذمت کا اعادہ کیا، تاکید کرتے ہوئے کہا کہ پوری پاکستانی قوم ان مشکل حالات میں اپنے ترک بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شیخ مجیب پر مقدمہ چلایا گیا، وکیل منتخب کرنے کیلئے کہا گیا تو اے کے بروہی مرحوم کا نام لیا، بروہی نے حکومت کی تحریری یقین دہانی پر وکالت کی
افغانستان کی صورت حال
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ افغانستان کی صورت حال کے حوالے سے وزیراعظم نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کے فروغ کے لیے ترکیہ کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا۔
مستقبل کے تعلقات
وزیراعظم نے فروری 2025 میں صدر اردوان کے تاریخی دورہ پاکستان اور اس کے بعد اپریل اور مئی 2025 میں اپنے دورہ ترکیہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔








