وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عید پر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی سے اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کے لیے وزیراعظم کو باقاعدہ خط ارسال کر دیا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا خط
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عیدالفطر کے موقع پر بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان کو باقاعدہ خط ارسال کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر داخلہ کو شکست دے کر ایم این اے بننے والے لیگی رہنما کا تہلکہ خیز انٹرویو
اہلِ خانہ کی ملاقات کا حق
خط میں وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی اس وقت اڈیالہ جیل میں زیرِ حراست ہیں، اور ان سے اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کے حوالے سے معاملہ پہلے بھی اٹھایا جاتا رہا ہے تاکہ قانونی تقاضوں اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کی پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: جگر کے کینسر میں مبتلا سابق چیف سلیکٹر و ٹیسٹ کرکٹر محمد الیاس انتقال کرگئے
عیدالفطر کی اہمیت
وزیراعلیٰ نے اپنے خط میں کہا کہ عیدالفطر ایک اہم مذہبی تہوار ہے، جس کے موقع پر خاندان اور قریبی اہلِ خانہ سے ملاقات کا حق دیا جانا چاہیے، جو زیرِ حراست افراد کا قانونی حق بھی ہے۔ انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ عدالتوں کے احکامات اور جیل مینوئل کے قواعد کے باوجود قیدیوں کو اہلِ خانہ سے ملاقات، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی حقوق کی فراہمی سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں بارشوں اور برفباری کا نیا سسٹم داخل
قانونی ذمہ داریاں
خط میں پاکستان پریزن رولز 1978 اور پریزنز ایکٹ 1894 کی متعلقہ شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ قیدیوں کو اپنے رشتہ داروں سے ملاقات، انسانی سلوک اور مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا قانونی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم کو ہدایات
وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرنے کا اظہار کیا تاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ان کے اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کا قانون کے مطابق حق دیا جاسکے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے عیدالفطر کے موقع پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان کو باقاعدہ خط ارسال کر دیا ہے۔
خط میں وزیراعلیٰ نے نشاندہی کی ہے کہ عمران خان اور… pic.twitter.com/McarrF8yIv
— Yar Muhammad Khan Niazi (@YarMKNiazi) March 19, 2026








