سری لنکا کا ایران جنگ میں غیر جانبداری کا اعلان، امریکا کو اڈہ دینے سے انکار
سری لنکا کا غیر جانبدار موقف
کولمبو (ڈیلی پاکستان آن لائن) سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے مارچ کے آغاز میں 2 جنگی طیارے مٹالا انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر تعینات کرنے کی درخواست کی تھی۔ انھوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جاری جنگ میں غیر جانبدار ہے اور کسی بھی فریق کے ساتھ جھکاؤ کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل کو حملہ کرنے سے کس نے روکا؟ بڑا دعویٰ سامنے آ گیا
قطر کی خبر رساں ادارے کی رپورٹ
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق قطر کے خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جاری تنازع میں غیر جانبدار پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی جانب جھکاؤ کے الزامات درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ، آتشزدگی کا شکار ایک ہی دکان سے 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہوگئی
ایران کے بحری جہازوں کی درخواست کا انکار
انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ سری لنکا نے ایران کے تین بحری جہازوں کے خیرسگالی دورے کی درخواست مسترد کی، جب کہ امریکا کی جانب سے اپنے دو جنگی طیاروں کو ماٹالا ایئرپورٹ پر اتارنے کی درخواست بھی قبول نہیں کی گئی۔ ان امریکی طیاروں پر اینٹی شپ میزائل نصب تھے اور انہیں جبوتی کے اڈے سے لانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے جہازوں کا خلیج عرب کے ممالک کویت اور عراق کا دورہ
امریکی سفیر سے ملاقات
سری لنکن صدر نے یہ بات بھارت میں تعینات امریکی سفیر سرجیو گور سے ملاقات کے بعد پارلیمنٹ میں کہی، جہاں انہوں نے حالیہ فیصلوں پر ہونے والی تنقید کا جواب دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل سے خیبر پختونخوا منتقلی کی درخواست 20ہزار روپے جرمانے کیساتھ خارج
دفاعی معاہدوں پر وضاحت
صدر ڈسانائیکے کے مطابق بعض حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ سری لنکا نے امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے ہیں، اسی لیے ایران کے بحری جہاز کو سہولت دینے میں تاخیر کی گئی۔ تاہم انہوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک پر جانب داری کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز نے پنجاب کی ایئر لائن ایئر پنجاب کو جلد از جلد فعال کرنے کا حکم دے دیا
غیر جانبداری کی پالیسی
انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکا دونوں نے حالیہ دنوں میں اپنے اپنے فوجی رابطوں کے لیے درخواستیں دی تھیں، لیکن ایک غیر جانبدار ملک ہونے کے ناطے سری لنکا نے دونوں کو ہی اجازت دینے سے انکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان اور نوابشاہ میں فائرنگ کے واقعات میں 11 افراد جاں بحق
ملکی پالیسی کی وضاحت
سری لنکا کے صدر کا کہنا تھا کہ ملک کی پالیسی یہی ہے کہ کسی بھی ملک کو ترجیح نہ دی جائے اور نہ ہی اپنی سرزمین، فضائی حدود یا سمندری حدود کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: خاموشی سے گاؤں چھوڑنے میں پہل کرنی پڑی، کرپان دو بندوق نہ دو، وہ ٹیسٹ میں فیل ہے، جتھے دار نے وقت مقررّ کیا ہے آپ دخل نہ دیں
ایرانی جہاز کے عملے کی بچاؤ
واضح رہے کہ 5 مارچ کو سری لنکا نے ایرانی بحری جہاز بشر کے 208 عملے کے ارکان کو بچایا تھا، یہ جہاز ان تین ایرانی بحری جہازوں کے گروہ کا حصہ تھا جو بھارت میں منعقدہ ایک بین الاقوامی بحری تقریب میں شرکت کے بعد واپس لوٹ رہا تھا۔
امریکی حملے کے اثرات
اس سے قبل ایرانی جہاز ’دینا‘ کو امریکا نے سمندر میں ڈبو دیا تھا جس میں 80 سے زائد ایرانی اہلکار مارے گئے تھے۔ ایرانی فریگیٹ دینا جو بھارتی بندرگاہ ویساکھاپٹنم سے واپس آرہی تھی اور بغیر ہتھیار کے تھی، امریکی حملے میں اسے نشانہ بنایا گیا۔








