قطر انرجی کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے باوجود ٹرمینلز کیلئے ادائیگی کا دعویٰ، وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بات چیت کی ہدایت کردی
قطر انرجی کا فورس میجر اعلان
اسلام آباد(ویب ڈیسک)مقامی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر انرجی کی جانب سے فورس میجر کے اعلان کے باوجود پاکستان کو اپنے دو RLNG ٹرمینلز کو یومیہ 538,535ڈالر (تقریباً 15ملین ڈالر ماہانہ) کی گنجائش اور استعمال کی مد میں ادائیگیاں جاری رکھنا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: سُندس فاؤنڈیشن میں کرسمس کی مناسبت سے خصوصی تقریب کا انعقاد، وزیر اقلیتی امور سردار رمیشن انگھ اروڑہ نے کیک کاٹا
وفاقی وزیر کا رد عمل
روزنامہ جنگ کے مطابق اس معاملے میں وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ان معاہدوں کو “خراب” اور “ملک کے مفاد کے خلاف” قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب ری گیسیفکیشن کے لیے LNG دستیاب ہی نہیں تو ٹرمینل آپریٹرز کو ادائیگیاں کیوں جاری رکھی جائیں؟ انہوں نے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹرمینل کمپنیوں سے بات چیت کرکے ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
یہ بھی پڑھیں: چھ سال بعد پی آئی اے کی پرواز لندن کے لیے روانہ
لیگالیٹی کا امکان
تاہم ایک ٹرمینل آپریٹر نے واضح کیا ہے کہ معاہدوں میں فورس میجر کے تحت ادائیگیاں معطل کرنے کی اجازت نہیں، اور اگر پاکستان نے یکطرفہ طور پر ادائیگی روکی تو لندن کورٹ آف انٹرنیشنل آربیٹریشن میں قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
LNG کی پیداوار کی حالت
خالد مصطفیٰ کی رپورٹ کے مطابق 2 مارچ کو LNG پیداوار رکنے کے بعد 4 مارچ کو قطر انرجی نے خریدار ممالک کے لیے فورس میجر کا اعلان کیا، جس کے بعد پاکستان کے اداروں پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی سدرن گیس کمپنی، سوئی نادرن اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے بھی اپنے معاہدوں کے تحت فورس میجر نافذ کیا۔








