ایران کی فضا میں امریکی ایف 35 طیارے کو کیسے نشانہ بنایا گیا؟ چینی ماہرین نے بتادیا
ایران میں امریکی ایف 35 طیارے کا نشانہ بننا
بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کی فضا میں امریکی ایف 35 طیارے کو کیسے نشانہ بنایا گیا؟ چینی ماہرین نے بتادیا۔
یہ بھی پڑھیں: حمیرہ اصغر کی موت۔۔ تنہائی کی بےرحم خاموشی تھی جو آخری ساتھی بنی ۔۔۔ہم زندہ ہیں یا صرف تماشائی؟
ایف-35 طیارے کی ہنگامی لینڈنگ
تفصیلات کے مطابق ایران کے اوپر فضائی کارروائیوں کے دوران ایک امریکی ایف-35 اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد طیارے کو مجبوراً ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔ یہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں پہلا موقع ہے جب ایران نے امریکی جدید لڑاکا طیارے کو نشانہ بنایا ہے۔ اس واقعے کے بعد چینی فوجی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ایران نے جدید ترین اسٹیلتھ طیارے کو کیسے ٹریک کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ کی آڑ میں بھارت نے جارحیت کا راستہ اختیار کیا، افواج پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، وزیراعظم شہبازشریف
چینی ماہرین کا تجزیہ
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ چینی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے ممکنہ طور پر ایف-35 کے ریڈار سے بچنے کی صلاحیت کو بائی پاس کرتے ہوئے الیکٹرو آپٹیکل/انفراریڈ (EO/IR) سینسر سسٹمز کا استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کی نئی کابینہ تشکیل، آج حلف اٹھائے گی
ماہرین کے بیانات
چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ریٹائرڈ کرنل یوئے گانگ نے کہا کہ اگرچہ ایف-35 ریڈار کے خلاف تحفظ رکھتا ہے لیکن اس کی اسٹیلتھ صلاحیتیں انفراریڈ سینسرز کے سامنے کمزور پڑ سکتی ہیں جو طیارے سے خارج ہونے والی حرارت کو ٹریک کرتے ہیں۔
عسکری تجزیہ کار سونگ ژونگ پنگ کے مطابق الیکٹرو آپٹیکل/انفراریڈ سینسرز کوئی برقی لہریں خارج نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ایف-35 کے لیے یہ جاننا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے کہ اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایران کا ممکنہ دفاعی نظام
ماہرین کا خیال ہے کہ ایران نے کسی مہنگے فضائی دفاعی نظام جیسے S-300 کے بجائے ممکنہ طور پر انفراریڈ گائیڈڈ میزائل استعمال کیا جو غالباً موڈیفائیڈ روسی ساختہ R-27T ائیر ٹو ائیر میزائل ہو سکتا ہے۔








