بھارتی پولیس کا ریلوے اسٹیشنز اور سرکاری عمارتوں کی ویڈیوز بنا کر پاکستان میں ہینڈلرز کو بھیجنے کے الزام میں 3 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ
بھارتی پولیس کی کارروائی
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی پولیس نے دہلی این سی آر اور ممبئی میں ریلوے اسٹیشنز سمیت دیگر سرکاری دفاتر کی ویڈیوز مبینہ طور پر پاکستان میں موجود ہینڈلرز کو فراہم کرنے کے الزام میں 3 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیز سیریز کی تیاری: کئی آسٹریلوی کرکٹرز بھارت کیخلاف ٹی 20 سیریز سے دستبردار
مزید گرفتاریاں
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ مزید تین افراد، جن میں ایک کم عمر لڑکا بھی شامل ہے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ وہ دہلی این سی آر اور ممبئی میں ریلوے اسٹیشنز اور سرکاری دفاتر کی ویڈیوز بنا کر حساس معلومات پاکستان میں موجود ہینڈلرز کو فراہم کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: میچ ریفری کا تنازع شدت اختیار کر گیا، پاکستان اپنے موقف پر قائم، آئی سی سی کو ایک اور خط لکھ دیا
نیٹ ورک کی تفصیلات
پولیس کے مطابق اس نیٹ ورک کا مرکزی ریکروٹر سردار عرف جورا سنگھ ہے، جو مختلف علاقوں میں افراد کو بھرتی کرتا تھا۔ تازہ کارروائی کے بعد حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 18 ہو گئی ہے، جن میں 6 کم عمر بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور چین نے ٹیرف میں 115 فیصد کمی پر اتفاق کرلیا
گرفتار افراد کی معلومات
گرفتار ہونے والوں میں نوشاد علی (20)، میرا (28) اور ایک 17 سالہ لڑکا شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق نوشاد علی سوشل میڈیا کے ذریعے اس نیٹ ورک سے منسلک ہوا اور بعد ازاں اس نے مالی مشکلات کا شکار نوجوانوں کو رقم کا لالچ دے کر بھرتی کیا۔
تحقیقات میں سامنے آنے والے سوشل میڈیا گروپس
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ملزمان موبائل ریپئر، کمپیوٹر اور سی سی ٹی وی جیسے تکنیکی ہنر رکھنے والے افراد کو خاص طور پر نشانہ بناتے تھے۔ ٹائمز آف انڈیا نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات کے دوران نوشاد سے منسلک 10 سے زائد سوشل میڈیا گروپس سامنے آئے ہیں، جن میں ہر گروپ میں 70 سے 80 افراد شامل تھے۔








