25 کروڑ مالیت کی چوری کا مقدمہ، گھریلو ملازمہ سے صرف 2 ہزار روپے برآمد،ملزمہ بری۔
چوری کے کیس میں بریت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) 25 کروڑ روپے کی چوری کے کیس میں گھریلو ملازمہ سے صرف 2 ہزار روپے برآمد ہوئے، عدالت نے ملزمہ کو بری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: عماد کے بعد عامر نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا
عدالتی سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ کورٹ میں گھریلو ملازمہ پر تقریباً 25 کروڑ روپے مالیت کی چوری کے مقدمے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں بتایا گیا کہ گھریلو ملازمہ پر کروڑوں روپے چوری کا الزام ہے اور دوران تفتیش برآمدگی صرف 2 ہزار روپے ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اکیلا ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو موخر نہیں کر سکتا، اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نے مکمل جنگ کو مسئلے کا حل قرار دے دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ کی فیصلہ
جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد ایسٹ رضوان الدین نے رخسانہ بی بی کی بریت درخواست منظور کر لی۔ واضح رہے کہ گھریلو ملازمہ پر 4 لاکھ روپے، 5 لاکھ برطانوی پاؤنڈز اور 5 لاکھ سعودی ریال کی چوری کا مقدمہ درج تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر بننے کا خواب مزید مہنگا ہوگیا … پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کی سالانہ فیسوں میں 5فیصد اضافہ
مدعی کی شکایت
پی ڈبلیو ڈی کی رہائشی خاتون نے گھریلو ملازمہ کے خلاف تھانہ لوئی بھیر میں جنوری 2024ء میں چوری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز: قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات اور ریسکیو سروسز میں بہتری لائی جا رہی ہے
ملزمہ کے وکیل کی بیان
آج ہونے والی سماعت میں ملزمہ کی جانب سے حبیب حنظلہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ نے ملتان ٹیسٹ کے لیے اپنی پلئینگ الیون کا اعلان کردیا
عدالت کے ریمارکس
دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل صفائی کے مطابق ملزمہ بے گناہ ہے، جسے بدنیتی کی بنیاد پر جھوٹے مقدمہ میں ملوث کیا گیا۔ ملزمہ پر 18 ستمبر 2025 کو فرد جرم عائد کی گئی، استغاثہ کو شواہد پیش کرنے کے متعدد مواقع دیئے گئے اور بار بار مواقع دیئے جانے کے باوجود استغاثہ کی جانب سے کوئی بھی گواہ پیش نہیں کیا جا سکا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی سلمان خان “کون بنے گا کروڑ پتی” میں امیتابھ بچن کی جگہ لیں گے؟ حقیقت سامنے آ گئی
عدالتی فیصلہ
عدالتی فیصلے کے مطابق دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں اگر استغاثہ کے شواہد ریکارڈ بھی کر لیے جائیں تو ملزمہ کو سزا کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ اتنی بڑی رقم گھر میں رکھ کر چابی ملازمہ کے حوالے کر دی جائے۔ گھر میں غیر ملکی کرنسی کی موجودگی یا چوری سے متعلق قانونی ثبوت یا دستاویزی شواہد بھی پیش نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھارت میچ کے دوران فیلڈنگ بہت اہم ہوگی ، سابق کپتان وقار یونس
استغاثہ کی کہانی مشکوک
فیصلے میں عدالت نے مزید کہا کہ استغاثہ کی کہانی انتہائی مشکوک ہے اور یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کے حق میں جاتا ہے۔ مزید عدالتی کارروائی سے قیمتی وقت کا ضیاع ہو گا جسے حقیقی مقدمات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مدعیہ کے مطابق گھر سے بھاری رقم چوری ہوئی جبکہ ملزمہ سے صرف 2000 روپے برآمد ہوئے۔ برآمد کی گئی رقم بھی بغیر کسی نشاندہی یا تفصیل کے تھی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
مدعیہ کی اطلاع
عدالت کے مطابق مدعیہ کو ہمسایوں نے گھریلو ملازمہ کے گھر میں داخلے کی اطلاع دی لیکن کسی کا دفعہ 161 کا بیان ریکارڈ پر موجود نہیں۔ ملزمہ رخسانہ بی بی کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249 اے کے تحت مقدمہ سے بری کیا جاتا ہے۔








