25 کروڑ مالیت کی چوری کا مقدمہ، گھریلو ملازمہ سے صرف 2 ہزار روپے برآمد،ملزمہ بری۔
چوری کے کیس میں بریت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) 25 کروڑ روپے کی چوری کے کیس میں گھریلو ملازمہ سے صرف 2 ہزار روپے برآمد ہوئے، عدالت نے ملزمہ کو بری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: طیارے سے آف لوڈ کیا گیا شخص ایئرپورٹ سے لاپتا، پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم
عدالتی سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈسٹرکٹ کورٹ میں گھریلو ملازمہ پر تقریباً 25 کروڑ روپے مالیت کی چوری کے مقدمے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں بتایا گیا کہ گھریلو ملازمہ پر کروڑوں روپے چوری کا الزام ہے اور دوران تفتیش برآمدگی صرف 2 ہزار روپے ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حساس ادارے کے دفاتر پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے 6 دہشتگرد گرفتار
جوڈیشل مجسٹریٹ کی فیصلہ
جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد ایسٹ رضوان الدین نے رخسانہ بی بی کی بریت درخواست منظور کر لی۔ واضح رہے کہ گھریلو ملازمہ پر 4 لاکھ روپے، 5 لاکھ برطانوی پاؤنڈز اور 5 لاکھ سعودی ریال کی چوری کا مقدمہ درج تھا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ احتجاج کے مقدمات میں ملزمان کی عدم حاضری پر عدالت شدید برہم، ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
مدعی کی شکایت
پی ڈبلیو ڈی کی رہائشی خاتون نے گھریلو ملازمہ کے خلاف تھانہ لوئی بھیر میں جنوری 2024ء میں چوری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 2 Brothers Killed by Tanker After Dropping Uncle at Karachi Airport
ملزمہ کے وکیل کی بیان
آج ہونے والی سماعت میں ملزمہ کی جانب سے حبیب حنظلہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی اسناد جعلی قرار، الیکشن کمیشن نے جمشید دستی کو نا اہل کر دیا
عدالت کے ریمارکس
دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل صفائی کے مطابق ملزمہ بے گناہ ہے، جسے بدنیتی کی بنیاد پر جھوٹے مقدمہ میں ملوث کیا گیا۔ ملزمہ پر 18 ستمبر 2025 کو فرد جرم عائد کی گئی، استغاثہ کو شواہد پیش کرنے کے متعدد مواقع دیئے گئے اور بار بار مواقع دیئے جانے کے باوجود استغاثہ کی جانب سے کوئی بھی گواہ پیش نہیں کیا جا سکا۔
یہ بھی پڑھیں: نمود و نمائش اور فضول رسم و رواج سے چھٹکارا حاصل کرنا پڑے گا،سادگی کو اپنانا ہو گا، آئیے انفرادی اور اجتماعی ہر سطح پر ملک و قوم کو بچانے کیلئے عہد کریں
عدالتی فیصلہ
عدالتی فیصلے کے مطابق دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں اگر استغاثہ کے شواہد ریکارڈ بھی کر لیے جائیں تو ملزمہ کو سزا کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ اتنی بڑی رقم گھر میں رکھ کر چابی ملازمہ کے حوالے کر دی جائے۔ گھر میں غیر ملکی کرنسی کی موجودگی یا چوری سے متعلق قانونی ثبوت یا دستاویزی شواہد بھی پیش نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ویوز کے لیے فیک نیوز دینے والے جرم کا مرتکب ہوگا، پنجاب پولیس کا دو ٹوک اعلان
استغاثہ کی کہانی مشکوک
فیصلے میں عدالت نے مزید کہا کہ استغاثہ کی کہانی انتہائی مشکوک ہے اور یہ قانون کا طے شدہ اصول ہے کہ شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کے حق میں جاتا ہے۔ مزید عدالتی کارروائی سے قیمتی وقت کا ضیاع ہو گا جسے حقیقی مقدمات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مدعیہ کے مطابق گھر سے بھاری رقم چوری ہوئی جبکہ ملزمہ سے صرف 2000 روپے برآمد ہوئے۔ برآمد کی گئی رقم بھی بغیر کسی نشاندہی یا تفصیل کے تھی جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
مدعیہ کی اطلاع
عدالت کے مطابق مدعیہ کو ہمسایوں نے گھریلو ملازمہ کے گھر میں داخلے کی اطلاع دی لیکن کسی کا دفعہ 161 کا بیان ریکارڈ پر موجود نہیں۔ ملزمہ رخسانہ بی بی کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249 اے کے تحت مقدمہ سے بری کیا جاتا ہے۔








