پنجاب حکومت کو دفاتر کیلئے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی زمین لینے سے روک دیا گیا
پنجاب حکومت کو یونیورسٹی کی اراضی واپس لینے سے روکا گیا
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو سرکاری دفاتر کے لیے ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی اراضی لینے سے روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: قائداعظم ٹرافی کا 26 اکتوبر سے آغاز ہوگا، ٹورنامنٹ میں سولہ ریجنز کی اٹھارہ ٹیمیں حصہ لیں گی
درخواست کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد چودھری اقبال نے سیالکوٹ کے رہائشی نوید خالد کی جانب سے دائر آئینی درخواست پر اہم سماعت کی، جس میں عدالت نے پنجاب حکومت کو یونیورسٹی کی اراضی سرکاری دفاتر کے لیے واپس لینے سے روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: دینی مدارس کے معاملے پر حکومت کیا چاہتی ہے۔۔۔؟ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بتا دیا
وکیل کا مؤقف
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے سن 2005 میں ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے قیام کے لیے مجموعی طور پر 200 ایکڑ اراضی مختص کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیز سیریز، پرتھ ٹیسٹ 2 دن میں ختم، آسٹریلیا 8 وکٹوں سے کامیاب
تعلیمی ادارے کی اہمیت
میاں داؤد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ویمن یونیورسٹی کی اراضی پر تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور وہاں طالبات زیر تعلیم ہیں۔ یہ یونیورسٹی علاقے کی بچیوں کے لیے واحد اور بہترین تعلیمی ادارہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہیری پوٹر کے اداکار کی گردن میں درد، گرل فرینڈ نے ڈاکٹر سے رجوع کا مشورہ دیا تو ایسا انکشاف کہ بڑا جھٹکا لگ گیا
وزیر دفاع کی مداخلت
یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ اب وزیر دفاع خواجہ آصف کی خواہش پر انتظامیہ یونیورسٹی کی 120 ایکڑ جگہ واپس لینا چاہ رہی ہے ۔ اس حوالے سے خواجہ آصف کا بیان بھی درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پبلک سروس کمیشن نے پی ایم ایس کے تحریری امتحانات کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا
مقامی انتظامیہ پر الزامات
درخواست گزار کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ مقامی انتظامیہ نے جھوٹ پر مبنی ریکارڈ کی بنیاد پر معاملہ پنجاب کابینہ کو بھیجا۔ جس کے بعد کابینہ نے اسی غلط ریکارڈ پر زمین واپسی کی منظوری دی۔
یہ بھی پڑھیں: جس نے کیس فائل کیا ہے وہ وکلا کہاں ہیں؟ جسٹس کے کے آغا کا جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری کیس میں استفسار
پنجاب حکومت کا ارادہ
ریکارڈ کے مطابق پنجاب حکومت طالبات سے اراضی چھین کر وہاں کلرکوں کے لیے دفاتر تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ میاں داؤد نے اسے بنیادی آئینی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر بلوچستان بھی آئینی ترامیم پر بول پڑے
عدالت کے ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس چودھری محمد اقبال نے پنجاب حکومت کے وکیل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل چودھری تنویر اختر سے اہم مکالمہ کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یونیورسٹی کے لیے جگہ ہمیشہ کم ہی ہوتی ہے۔ حکومت سے کہیں کہ وہ اپنے سرکاری دفاتر کسی دوسری جگہ پر تعمیر کر لے۔
نوٹس کا اجرا
عدالت نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے پنجاب حکومت، ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ اور چانسلر یونیورسٹی (گورنر پنجاب) کو نوٹس جاری کر دیئے۔ تمام فریقین کو 3 ہفتوں میں تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔








