ایران نے پاکستان کے 8 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے کر تحفہ دیا ہے، ٹرمپ کی کابینہ میں گفتگو
ایرانی تحفہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ایک “تحفہ” دے کر یہ تاثر دیا کہ وہ ممکنہ معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے، اور یہ تحفہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کو محفوظ گزرنے کی اجازت دینا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے سزائے موت کے ملزم کو بری کردیا
کابینہ کے اجلاس میں گفتگو
کابینہ کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکام نے انہیں یقین دہانی کرانے کے لیے کہا کہ وہ آٹھ بڑے آئل ٹینکرز کو گزرنے دیں گے تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ سنجیدہ اور مضبوط موقف رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق بعد میں جب انہوں نے خبریں دیکھیں تو واقعی آٹھ جہاز آبنائے ہرمز کے درمیان سے گزرتے ہوئے نظر آئے، اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ جہاز پاکستانی پرچم کے تحت چل رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی چاولوں نے عالمی منڈی میں دھوم مچادی، مانگ میں غیر معمولی اضافہ
جہازوں کی گزرگاہ
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ آٹھ جہاز گزرنے کے بعد انہوں نے معذرت کی اور کہا کہ وہ دو مزید جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے رہے ہیں، یوں یہ 10 جہاز ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد دھماکہ قابل مذمت، دنیا تسلیم کرے کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین تنویر احمد
تصدیق کی عدم موجودگی
ٹائمز آف اسرائیل کے مظابق دستیاب معلومات کے مطابق اگرچہ اس ہفتے کے آغاز میں کچھ آئل ٹینکرز نے اس اہم سمندری گزرگاہ کو عبور کیا، لیکن آٹھ مخصوص جہازوں کے حوالے سے کوئی تصدیق شدہ رپورٹ سامنے نہیں آئی، اور نہ ہی ایسے کسی جہاز کی نشاندہی ہوئی ہے جو پاکستانی پرچم بردار ہو۔
ایران کے معاہدے کی خواہش
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں یہ مؤقف بھی دہرایا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس پر شدید دباؤ ہے اور وہ کمزور پوزیشن میں آ چکا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا وہ ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں، ٹرمپ نے کہا کہ یہ ایک آپشن ہو سکتا ہے، لیکن اس بارے میں وہ فی الحال کھل کر بات نہیں کرنا چاہتے۔








