اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی اداروں میں بھرتیوں پر پابندی کا حکم امتناع واپس لے لیا
اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس سمیت وفاقی اداروں میں بھرتیوں پر پابندی کا حکم امتناع ختم کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: وہ سر جھکائے منہ لٹکائے چلے گئے، شکوہ کیا کہ آپ کی وجہ سے شرمندگی اٹھانا پڑی، انگور کھٹے تھے، حماقت تھی مگر سچی، سیکر ٹیریٹ بہترین تربیت گاہ ہے۔
عدالت کا لارجر بنچ اور حکم امتناع کا خاتمہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس انعام امین منہاس پرمشتمل لارجر بنچ نے حکم نامہ جاری کیا، عدالت نے یکم اگست 2024 کو جاری کردہ حکم امتناع واپس لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اور پیوٹن کا ٹیلی فونک رابطہ، اگلے ہفتے اعلیٰ سطح کے مذاکرات پر اتفاق، دونوں صدور ینگری میں ملیں گے
بھرتیوں کا نیا عمل شروع کرنے کی ہدایت
عدالت نے اپنے فیصلے میں آئی جی اسلام آباد پولیس کو موجودہ پالیسی کے مطابق بھرتیوں کا نیا عمل شروع کرنے کی ہدایت کردی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے ایران میں ہسپتال پر حملہ کردیا
سیکیورٹی خدشات اور درخواست گزار کا موقف
حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھایا، جبکہ درخواست گزار بیرسٹر یاور گردیزی نے دلائل کیلئے مہلت طلب کی ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق پولیس میں بھرتیوں کا عمل رکنے سے سیکیورٹی خدشات پیدا ہوئے۔
امیدواروں کے مواقع اور بھرتیوں کی شرائط
عدالتی حکم نامے کے مطابق کیس کی وجہ سے زائد العمر ہونے والے امیدواروں کو بھی نئی بھرتیوں میں موقع دیا جائے، تمام بھرتیاں کیس کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوں گی۔








