ہر چیز تباہ ہوگئی، کوئی بھی ملک ساتھ دینے کو تیار نہیں، اسرائیل کے لیے کچھ کرو۔۔۔ اسرائیل کے 2 میئرز کھل کر بول پڑے، حقیقت میڈیا پر آ کر بتا دی
اسرائیل میں تباہی کی عکاسی
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) ’’ہر چیز تباہ ہوگئی، کوئی بھی ملک ساتھ دینے کو تیار نہیں، اسرائیل کیلئے کچھ کرو‘‘۔۔۔ اسرائیل کے 2 میئرز کھل کر بول پڑے، حقیقت میڈیا پر آ کر بتا دی۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: سرگودھا والوں کو کم قیمت میں مزید خوبصورت بنانے کے لیے Aesthetic Hub کا افتتاح کر دیا گیا
ایران کے حملوں کی تباہی
تفصیلات کے مطابق ایران کے میزائلوں اور ڈرونز سے اسرائیل میں تباہی کی ویڈیوز سینسر کرنے کا سلسلہ تو جاری ہے مگر اسرائیل میں صرف حزب اللّٰہ کے حملوں سے کس قدر تباہی ہوئی ہے، اس کا اظہار لبنانی سرحد کے قریب واقع علاقے مارگالیوت کے میئر نے کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک خوف سے نہیں، سچائی سے چلے گا” راہول گاندھی بی جے پی پر برس پڑے
مارگالیوت کے میئر کی فریاد
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق ٹی وی پر براہ راست نشر ہونے والے انٹرویو کے دوران میئر نے روتے ہوئے کہا کہ ’’ہر چیز تباہ ہوگئی ہے مگر کوئی بھی ملک اسرائیل کا ساتھ دینے کو تیار نہیں۔‘‘ مارگالیوت کے میئر نے فریاد کرتے ہوئے مغربی ممالک سے کہا کہ ’’تسلیم کرو کہ تم اس صورتحال سے نمٹ نہیں سکتے اور ساتھ ہی فریاد کی کہ اسرائیل کیلئے کچھ کرو۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب کے حلقے میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے الیکشن کمیشن کی کارروائی کے خلاف فیصلہ محفوظ
کیرت شمونہ کے میئر کا موقف
دوسری جانب اسرائیل کے علاقے کیریت شمونہ کے میئر ایویچائی اسٹرن بھی پھٹ پڑے۔
وزیراعظم نیتن یاہو کی پالیسیوں پر مشتعل میئر ایویچائی اسٹرن نے کہا کہ حزب اللّٰہ جیت گئی، اسرائیلی ریاست ناکام ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کی سابق خاتون اول جل بائیڈن نے نئی ذمہ داری سنبھال لی
بدترین تباہی کی داستان
انہوں نے ایران اور حزب اللّٰہ کے ہاتھوں اسرائیل میں بدترین تباہی کی داستان سنائی۔
اجلاس سے خطاب میں میئر ایویچائی اسٹرن نے کہا کہ اسرائیل کا ایک شہر صفحۂ ہستی سے مٹ چکا، 16 ہزار شہری جا چکے، بقیہ 10 ہزار اگر 10 روز بھی ٹھہرے تو بمباری میں صرف 10 ہی بچیں گے۔ لبنان اور ایران محاذ ہم کیسے بھی ختم کریں، شہری یہ کہتے ہیں کہ حزب اللّٰہ جیت گئی۔
حفاظتی صورتحال کا سوال
انہوں نے سوال کیا کہ اسرائیل کی یہ کیسی فتح ہے کہ لوگوں کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا، لوگوں کو مسلسل شیلٹر میں پناہ لینا پڑتی ہے، ہر سیکنڈ پر بارود برس رہا ہے۔
میئر نے بتایا کہ ان کی اپنی 2 کمسن بیٹیاں ہیں، وہ انہیں کہاں لے کر جائیں، ایک سیکنڈ کی وارننگ کے بغیر میزائل برس رہے ہیں، شہریوں کو ذرا برابر تحفظ حاصل نہیں، ایسی بمباری میں بوڑھوں، معذور بچوں اور خصوصی افراد کو لے کر کہاں جائیں؟ کثیرالمنزلہ عمارت میں بیماریوں کے شکار مقیم بوڑھے 10 سیکنڈ میں کیسے شیلٹر میں جا سکتے ہیں؟ غریب بس ڈرائیور کیسے 10 سیکنڈ میں بس روکے، مسافر اتریں اور شیلٹر میں داخل ہوں؟ ایسے ہی حالت میں ایک بس ڈرائیور سر پر بم لگنے سے مرا ہے۔








