ایران سے منسلک ہیکرز کا ایف بی آئی ڈائریکٹر کا ذاتی ای میل اکاؤنٹ ہیک کرنے کا دعویٰ
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کا ای میل ہیک
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران سے منسلک ہیکرز نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کے ذاتی ای میل اکاؤنٹ میں دراندازی کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کی تصاویر اور دیگر دستاویزات انٹرنیٹ پر شائع کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے معاون خصوصی کے گھر پر راکٹ حملہ
ہیکرز کی جانب سے دعویٰ
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ہینڈالہ ہیکر گروپ نامی ہیکروں کے گروہ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا، پٹیل "اب کامیابی سے ہیک کیے گئے افراد کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں۔" امریکی محکمہ انصاف کے ایک اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی کہ پٹیل کا ای میل اکاؤنٹ ہیک ہوا ہے اور آن لائن شائع ہونے والا مواد بظاہر مستند معلوم ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان تاریخ ساز امن مذاکرات کا آغاز ہو گیا
ایف بی آئی کا ردعمل
ایف بی آئی نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہ دیا، جبکہ ہیکرز کی جانب سے بھی ان کو بھیجے گئے سوالات کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی ادارے پانچ دن بند رکھنے کا اعلان
ہینڈالہ ہیکرز کا پس منظر
مغربی محققین کے مطابق خود کو فلسطین نواز ہیکرز کا گروپ قرار دینے والا ہینڈالہ گروہ ایرانی حکومتی سائبر انٹیلیجنس یونٹس کی جانب سے استعمال کیے جانے والے کئی نقابوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس گروپ نے حال ہی میں 11 مارچ کو مشیگن میں قائم طبی آلات اور خدمات فراہم کرنے والی کمپنی Stryker کو ہیک کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے کمپنی کا بڑا ڈیٹا حذف کر دیا ہے۔
ڈیٹا لیک کی متنازع حیثیت
خبر رساں ادارہ روئٹرز اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا کہ پٹیل کے ای میلز واقعی ہیک ہوئے، تاہم جس ذاتی جی میل اکاؤنٹ میں دراندازی کا دعویٰ کیا گیا ہے، وہ اس پتے سے مطابقت رکھتا ہے جو اس سے قبل ڈیٹا لیکس میں پٹیل سے منسلک رہا ہے.








