آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا
آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں عمران خان، بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت
ملنے والی رقم کی تفصیلات
آئی ایم ایف کے مطابق منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔ یعنی پاکستان کو مجموعی طور پر 1 اعشاریہ 2 ارب ڈالر ملیں گے۔ یہ رقم آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد جاری ہوگی اور نئی قسط ملنے سے پاکستان کو ملنے والی رقم 4.5 ارب ڈالر ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا قافلہ ڈی چوک سے واپس جا رہا ہے، سینیئر صحافی کا دعویٰ
معاشی بہتری اور چیلنجز
عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت میں بہتری، مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ کنٹرول میں ہے، تاہم مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے معیشت کو خطرات لاحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک ایکسچینج میں ایک اور ریکارڈ قائم،100انڈیکس 1لاکھ 5ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرگیا
حکومتی اقدامات
اعلامیے کے مطابق حکومت پاکستان مالی خسارہ کم کرنے کا عزم رکھتی ہے اور اس حوالے سے ٹیکس نظام بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔ غریب عوام کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع کی گئی ہے اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے امداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: گھریلو جھگڑے پر خاتون نے زہریلی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی
مالی پالیساں
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کے لیے سخت پالیسی جاری رکھے گا، ضرورت پڑنے پر شرح سود مزید بڑھائی جا سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور معاشی استحکام بہتر ہوا ہے، تاہم توانائی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مہنگائی بڑھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: بیدیاں روڈ پر گھر میں آگ لگنے سے 5 افراد جھلس گئے
ٹیکس نیٹ میں توسیع
آئی ایم ایف نے پاکستان پر ٹیکس نیٹ بڑھانے اور اخراجات کنٹرول کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات پر عملدرآمد شروع ہونے سے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ پاکستان ڈیجیٹل انوائسنگ اور ٹیکس آڈٹ نظام مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ 2 ریفرنس کیس، بشریٰ بی بی کا عدالت میں آنے سے انکار، سماعت 3 جون تک ملتوی
مالی سال کے اہداف
مالی سال 2026 میں 1.6 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف ہے۔ پاکستان کا مالی سال 2027 میں سرپlus 2 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غربت میں کمی اور سماجی تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں میں مالیاتی امید بلند مگر مجموعی عوامی اعتماد میں کمی ہوئی، اپسوس کا تازہ سروے
بیرونی ادائیگیوں کی یقین دہانی
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بینکاری نظام کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے مستحکم رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے روکنے کا عزم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت، سڑک پر بیٹھ کر بھیک مانگنے والا گداگر کروڑ پتی نکلا، 3 گھر ، گاڑیوں اور رکشے کا مالک ہونے کا انکشاف
نجکاری اور بدعنوانی کی روک تھام
عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرکاری اداروں کی اصلاحات اور نجکاری اہم ترجیح ہے۔ حکومت پاکستان نے مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
ماحولیاتی اقدامات
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات تیز کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے گرین ٹرانسپورٹ اور کاربن اخراج میں کمی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ پانی کے نظام کی بہتری اور آفات سے نمٹنے کے لیے مالی نظام کی تیاری جاری ہے۔








