ایران پر حملہ ایسی جنگ کی بنیاد ڈال رہا ہے جو عشروں جاری رہے گی: سربراہ ترک انٹیلی جنس سروس
ابراہیم قالن کا بیان
استنبول (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترکیہ کی خفیہ سروس کے سربراہ ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ دراصل ایک ایسی علاقائی جنگ کی بنیاد ڈال رہی ہے جو عشروں جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: چینی طیارے نے جدید ترین ’غیر ملکی‘ اسٹیلتھ طیاروں پر نشانہ باندھ کر انہیں بھاگنے پر مجبور کردیا
پاکستان کا امن کے قیام میں کردار
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ابراہیم قالن نے قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ پاکستانی اقدامات سمیت مذاکرات کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خطرناک بات یہ تھی کہ کوبرا سانپ بکثرت گرمی کے موسم میں اکیڈمی کے گرد و نواح سے نکلتے اور گھروں کی زیارت کو ضرور آتے۔ سبھی مارے جاتے۔
ایران کے حملے کی نا انصافی
انہوں نے اپنے ایک خطاب میں کہا کہ خلیجی ممالک پر ایران کا حملہ ناقابل قبول ہے مگر یہ بھی نہ بھولیں کہ جنگ شروع کس نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: دہشتگردی واقعات پر کیا افغانستان کے اندر کارروائی کی جائے گی؟ وزیر داخلہ محسن نقوی نے صحافی کے سوال کا جواب دیدیا
ترکی کا عزم
ابراہیم قالن کا کہنا تھا کہ ترکیہ اس آگ کے گولے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر ٹھنڈا کرے گا، ایران کے خلاف جون میں 12 روزہ جنگ حالیہ جنگ کے لیے حالات جانچنے کی خاطر تھی، ترکیہ، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان عشروں تک تنازع کی بنیاد ڈالی جا رہی ہے۔
جنگ کی ممکنہ قیمت
سربراہ ترک انٹیلی جنس سروس نے کہا کہ ایران جنگ سے خطے میں تقسیم گہری ہونے کا خدشہ ہے، بدقسمتی یہ ہے کہ علاقائی جنگ کی قیمت 8 ارب افراد کو چکانی پڑے گی۔ جنگ شروع کرنے والے لبنان، شام، فلسطین اور دیگر علاقوں میں نئے حقائق پیدا کر رہے ہیں۔








