پی ایس ایل 11 تماشائیوں کے بغیر کرانے سے پی سی بی کو کتنا نقصان ہوگا؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کا فیصلہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کرکٹ بورڈ نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو محدود پیمانے پر صرف دو شہروں میں اور تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس فیصلے کے مالی اثرات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بس اڈے کھول دیئے گئے، موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس بھی بحال
مالی نقصان کا اثر
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ سال اسٹیڈیمز میں شائقین کی آمد سے تقریباً 50 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی جو اب مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ ایسے میں یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اس خسارے کو کیسے پورا کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
مالیاتی نظام کی تفصیلات
پی ایس ایل کے مالیاتی نظام کے مطابق ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے ایک مرکزی ریونیو پول میں شامل کر دیا جاتا ہے جسے پی سی بی خود منظم کرتا ہے۔ اس پول میں براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: Honor x6c کی ان باکسنگ
ریونیو کی تقسیم
ریونیو کی تقسیم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت ہوتی ہے، جس میں پی سی بی تقریباً پانچ فیصد سے کچھ زائد حصہ رکھتا ہے جبکہ 90 فیصد سے زیادہ رقم تمام فرنچائزز میں برابر تقسیم کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی حافظ آباد میں اہم ملاقاتیں اور ہدایات
پی ایس ایل 8 کی آمدن
مثال کے طور پر پی ایس ایل 8 (2023) میں مجموعی آمدن تقریباً 5.62 ارب روپے رہی، جس میں سے پی سی بی کو لگ بھگ 58 کروڑ روپے ملے جبکہ باقی رقم فرنچائزز میں تقسیم ہوئی۔ اس وقت لیگ میں چھ ٹیمیں شامل تھیں اور ہر ٹیم کو اوسطاً 84 کروڑ روپے کے قریب حصہ ملا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، 15 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی کرنے والے مجرموں کو سزا سنا دی گئی
هیچ اور پی سی بی کا ردعمل
چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی پول کا حصہ ہوتی ہے، اس لیے یہ نقصان تمام ٹیموں پر یکساں اثر ڈالے گا۔ تاہم پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس خسارے کو خود برداشت کرے گا۔
شائقین کی غیر موجودگی
اگرچہ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہے لیکن شائقین کے بغیر میچز کا ماحول متاثر ہوگا جس کی کمی کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔








