پی ایس ایل 11 تماشائیوں کے بغیر کرانے سے پی سی بی کو کتنا نقصان ہوگا؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کا فیصلہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کرکٹ بورڈ نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو محدود پیمانے پر صرف دو شہروں میں اور تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس فیصلے کے مالی اثرات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج اندرونی طور پر ٹوٹ جائے گی، ریزرو فوجی مزید نہیں لڑ پائیں گے: اسرائیلی آرمی چیف کی وارننگ
مالی نقصان کا اثر
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ سال اسٹیڈیمز میں شائقین کی آمد سے تقریباً 50 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی جو اب مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ ایسے میں یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اس خسارے کو کیسے پورا کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: علاقائی کشیدگی، عالمی دباؤ اور معاشی بے چینی، بھارت کے لیے 2026 کیسا ہوگا؟ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی تہلکہ خیز رپورٹ سامنے آ گئی
مالیاتی نظام کی تفصیلات
پی ایس ایل کے مالیاتی نظام کے مطابق ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے ایک مرکزی ریونیو پول میں شامل کر دیا جاتا ہے جسے پی سی بی خود منظم کرتا ہے۔ اس پول میں براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر سیف کی سربراہی میں کے پی کے وفد کا شمالی وزیرستان کا دورہ
ریونیو کی تقسیم
ریونیو کی تقسیم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت ہوتی ہے، جس میں پی سی بی تقریباً پانچ فیصد سے کچھ زائد حصہ رکھتا ہے جبکہ 90 فیصد سے زیادہ رقم تمام فرنچائزز میں برابر تقسیم کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے کوہاٹ میں پاکستانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کو گمراہ کن، من گھڑت اور پروپیگنڈا قرار دے دیا۔
پی ایس ایل 8 کی آمدن
مثال کے طور پر پی ایس ایل 8 (2023) میں مجموعی آمدن تقریباً 5.62 ارب روپے رہی، جس میں سے پی سی بی کو لگ بھگ 58 کروڑ روپے ملے جبکہ باقی رقم فرنچائزز میں تقسیم ہوئی۔ اس وقت لیگ میں چھ ٹیمیں شامل تھیں اور ہر ٹیم کو اوسطاً 84 کروڑ روپے کے قریب حصہ ملا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر ہاؤس میں امریکہ اور کینیڈا سے آئے سکھ یاتریوں کے اعزاز میں تقریب، گورنر پنجاب نے بھارت کو کرکٹ کے حوالے سے “خصوصی پیغام” بھی دیدیا
هیچ اور پی سی بی کا ردعمل
چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی پول کا حصہ ہوتی ہے، اس لیے یہ نقصان تمام ٹیموں پر یکساں اثر ڈالے گا۔ تاہم پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس خسارے کو خود برداشت کرے گا۔
شائقین کی غیر موجودگی
اگرچہ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہے لیکن شائقین کے بغیر میچز کا ماحول متاثر ہوگا جس کی کمی کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔








