پی ایس ایل 11 تماشائیوں کے بغیر کرانے سے پی سی بی کو کتنا نقصان ہوگا؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کا فیصلہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان کرکٹ بورڈ نے حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کو محدود پیمانے پر صرف دو شہروں میں اور تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس فیصلے کے مالی اثرات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتہ کیسا رہا ؟
مالی نقصان کا اثر
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ سال اسٹیڈیمز میں شائقین کی آمد سے تقریباً 50 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی جو اب مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ ایسے میں یہ اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اس خسارے کو کیسے پورا کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کانگریس رہنما چرن جیت سنگھ چنی نے بالاکوٹ سرجیکل سٹرائیکس کے ثبوت طلب کرلئے
مالیاتی نظام کی تفصیلات
پی ایس ایل کے مالیاتی نظام کے مطابق ٹکٹوں سے حاصل ہونے والی رقم کسی ایک ٹیم کو نہیں ملتی بلکہ اسے ایک مرکزی ریونیو پول میں شامل کر دیا جاتا ہے جسے پی سی بی خود منظم کرتا ہے۔ اس پول میں براڈکاسٹنگ رائٹس، اسپانسرشپ اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو تباہی ہوئی ہے اسے پہلے سے بہتر بنا کر دوبارہ تعمیر کریں گے، ایرانی صدر مسعود پزشکیان
ریونیو کی تقسیم
ریونیو کی تقسیم ایک طے شدہ فارمولے کے تحت ہوتی ہے، جس میں پی سی بی تقریباً پانچ فیصد سے کچھ زائد حصہ رکھتا ہے جبکہ 90 فیصد سے زیادہ رقم تمام فرنچائزز میں برابر تقسیم کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویوو پاکستان کا سماجی خدمت میں بڑا قدم، “Capture the Future” مہم کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا
پی ایس ایل 8 کی آمدن
مثال کے طور پر پی ایس ایل 8 (2023) میں مجموعی آمدن تقریباً 5.62 ارب روپے رہی، جس میں سے پی سی بی کو لگ بھگ 58 کروڑ روپے ملے جبکہ باقی رقم فرنچائزز میں تقسیم ہوئی۔ اس وقت لیگ میں چھ ٹیمیں شامل تھیں اور ہر ٹیم کو اوسطاً 84 کروڑ روپے کے قریب حصہ ملا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتیاں اسلام آباد سے ہونی چاہئیں: جسٹس (ر) شوکت صدیقی
هیچ اور پی سی بی کا ردعمل
چونکہ گیٹ منی بھی اسی مرکزی پول کا حصہ ہوتی ہے، اس لیے یہ نقصان تمام ٹیموں پر یکساں اثر ڈالے گا۔ تاہم پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس خسارے کو خود برداشت کرے گا۔
شائقین کی غیر موجودگی
اگرچہ مالی نقصان کا ازالہ ممکن ہے لیکن شائقین کے بغیر میچز کا ماحول متاثر ہوگا جس کی کمی کو پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔








