آبنائے ہرمز کے لیے ایک کنسورشیم کی تجویز ہے جس میں پاکستان کو بھی دعوت دی جاسکتی ہے، روئٹرز کا دعویٰ
اسلام آباد میں اہم سفارتی پیش رفت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان نے خطے کی بڑی طاقتوں کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرتے ہوئے ایران سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اتوار کے روز ہونے والے ان مذاکرات میں ترکی، مصر اور سعودی عرب کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ بات چیت کا مرکزی محور آبنائے ہرمز کو دوبارہ عالمی جہاز رانی کے لیے کھولنے کی تجاویز رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ: بھارت کے ہاتھوں دوبارہ شکست پر مریم نفیس نے محسن نقوی سے کیا درخواست کی؟ ٹوئٹ وائرل
مذاکرات کی اہمیت
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے جب ایران نے امریکہ کو زمینی حملے سے خبردار کیا ہے، اور دوسری جانب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی تھی، گزشتہ ایک ماہ سے تقریباً بند ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے ردعمل میں اٹھائے گئے اقدامات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فضائیہ کو ایران میں مکمل آزادی، کسی قسم کی مزاحمت کا خوف نہیں، الجزیرہ ٹی وی کی تہلکہ خیز رپورٹ
پاکستان کی ثالثی کی کوششیں
پاکستان، جو ایک طرف ایران کے ساتھ سرحد رکھتا ہے اور دوسری طرف واشنگٹن کے ساتھ بھی سفارتی روابط رکھتا ہے، اس بحران میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ اسی تناظر میں انقرہ اور قاہرہ بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور عالمی تجارتی راستوں کو بحال کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب چیریٹیز کمیشن کا غیر رجسٹرڈ فلاحی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ
تجاویز اور کنسورشیم کی تشکیل
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے قبل مصر سمیت چند ممالک نے اپنی تجاویز وائٹ ہاؤس کو بھجوا دی تھیں، جن میں آبنائے ہرمز کے لیے نہر سویز طرز کی فیسوں کا نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مزید برآں، بعض اطلاعات کے مطابق ترکی، مصر اور سعودی عرب کی جانب سے ایک مشترکہ کنسورشیم بنانے کی تجویز بھی زیر غور آئی، جو اس اہم آبی گزرگاہ میں تیل کی ترسیل کو منظم کرے گا، اور پاکستان کو بھی اس میں شامل ہونے کی دعوت دی جا سکتی ہے، تاہم پاکستانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے تاحال اس میں شمولیت پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے بنگلہ دیش کے سفیر کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال
امریکہ اور ایران کے ساتھ بات چیت
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس ممکنہ کنسورشیم کے حوالے سے امریکہ اور ایران دونوں سے ابتدائی سطح پر بات چیت ہو چکی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر مسلسل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے رابطے میں ہیں تاکہ سفارتی پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
ترکی کی کوششیں
ترکی کے ایک سفارتی ذریعے نے اس بات پر زور دیا کہ انقرہ کی اولین ترجیح جنگ بندی کا حصول ہے، تاہم جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا بھی اعتماد سازی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر بڑے معاہدے کی راہ ہموار کرے گا۔








