کہا ”اس شترِ بے مہار کو روکو…… اس کو اک دُشنام اک دھتکار دے بیٹھو“ ایک اور لت بھی پڑ گئی، لذیذ اور چٹخارے دار کھانوں نے روز مرّہ کا تیا پانچا کر دیا۔
مصنف کی وضاحت
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 101
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت جنگ: وزیراعظم نے نقصانات کے جائزے کے لیے کمیشن تشکیل دے دیا
عقل کی گفتگو
عقل چُپکے سے ناصح بن بیٹھی! کہا ”اِس شترِ بے مہار کو روکو…… اِس کو اِک دُشنام اِک دُھتکار دے بیٹھو۔“
یہ بھی پڑھیں: چنگن نے کاروان کا نیا ماڈل لانچ کر دیا
عشق کی یادیں
کہا ”یاد ہے؟ عشق میں تخت و تاج نہ رہے بکھر گئے“
”وہ جُبّہ و دستار سبھی بھسم ہُوئے“
”وہ شوخیاں حزن و ملال میں بدلیں“
”وہ آرزوئیں نہ کبھی آس میں بدلیں، چُپکے چُپکے سے شام کر ڈالو“
”دِل ناداں کو رام کر ڈالو“
یہ بھی پڑھیں: مشہور انگلش کلوگار سینٹرل سی نے اسلام قبول کر لیا
وقت کا سوال
اُدھر اٹھا جو ”وقت“ سوال کر بیٹھا؟
”تبدیلیٔ مذہب شرط ہوگی“
تو کیا ہے ”سب مذاہب کو جینے کا حق ہے“
وہ پھر بولا!
”جہنم کی آگ تمہارا اوڑھنا بچھونا ہوگی“
دِل مُنہ پھاڑ کے بولا
کل کس نے دیکھی ہے …… دیکھا جائے گا!
یہ بھی پڑھیں: وزیر تعلیم سندھ کا بعض بورڈز کی جانب سے امتحانی فیس کی وصولی کا نوٹس
سوسائٹی کا چیلنج
س: سوسائٹی کی پھٹکار سہہ لو گے؟
ج: کونسی پھٹکار، نئی بننے والی سوسائٹی سنبھال لے گی!
یہ بھی پڑھیں: جب وقت آئے گا پاکستان کی پالیسی پوری دنیا دیکھے گی کہ کتنی واضح ہے: عطا تارڑ
دِل کا سفر
نا جانے کیوں دِل پھر رُکا…… بُجھا، پھر کھِلا ……پھر دُکھااور شکوے پہ اُتر آیا!
سبھی مُجھ سے یہ کہتے ہیں کہ نیچی رکھ نظر اپنی
کوئی اُن سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہوکر
یہ بھی پڑھیں: کراچی: تیز آندھی کے باعث تاجر چھت سے گر کر جاں بحق
چنیوٹ کا حال
چنیوٹ شہر کے گرد و نواح کا سوئل سروے کرتے، گوسرکاری طور پر خانساماں ملا ہوا تھا اور ریسٹ ہاؤس میں کھانے کا اہتمام وہی کرتا تھا لیکن چنیوٹ شہر کے لذیذ اور چٹخارے دار کھانوں نے اس روز مرّہ کا تیا پانچا کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: معرکۂ حق میں مودی سرکار کو وہ سبق سکھایا ہے جو وہ کبھی نہیں بھولے گی، بھارت یہ شکست کبھی فراموش نہیں کر سکے گا، وزیرِ اعظم شہباز شریف
دریائے چناب کی خوشبو
اکثر دوپہر کا کھانا چنیوٹ شہر میں ہی تناول کیا جانے لگا۔ اُس کے ساتھ ایک اور لَت بھی پڑ گئی، وہ یہ کہ پیٹ بھرے دریائے چناب کے کنارے دریا کی موجوں کی اٹکھیلییوں سے جھولیاں بھرتے، لیٹے رہتے، وہ تو ڈرائیور حسب ہدایت ایک گھنٹے کے دوران ہارن پہ ہارن بجانے لگتا تو اُٹھ کر اپنے سوئل سروے کا ڈول ڈال دیتے。
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیز فائر کے تسلسل کا خیر مقدم کرتے ہیں،خواجہ سعد رفیق
رَبواہ کا واقعہ
دریائے چناب سے آگے چلتے جائیں تو بائیں طرف ”رَبواہ“ کا ریلوے اسٹیشن آپ کی نگاہ سے گزرے گا۔ اُن دنوں اسٹیشن کے گرد و نواح میں ایک بڑا نا خوشگوار واقعہ رونما ہوا۔ اِس اسٹیشن کے ساتھ ایک اچھی خاصی آبادی تھی۔ کسی اشتعال انگیز بات پر فساد برپا ہوگیا اور دو تین جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔
(جاری ہے)
نوٹ
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








