امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں فوجیوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد کر دی، ایران کے خلاف مزید کارروائیوں پر غور
امریکی فوج کی مشرقِ وسطیٰ میں تعداد میں اضافہ
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیویارک ٹائمز نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران 2,500 میرینز اور 2,500 نیوی سیلرز کی آمد کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جو معمول سے تقریباً 10 ہزار زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاح گھنٹوں قطار بنائے منتظر رہتے تھے، میں نے ذہنی طور پر اپنے آپ کو تھکا دینے والے سفر کیلئے تیار کر لیا تھا، کب آنکھ لگی پتہ ہی نہیں چلا
فوجی مشن کی توقعات
امریکی حکام کے مطابق یہ فوجی "میرین ایکسپڈیشنری یونٹ 31" سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ انہیں کون سا مخصوص مشن سونپا جائے گا، تاہم صدر ٹرمپ بڑے فوجی حملے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں، جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کسی جزیرے یا زمینی علاقے پر قبضہ کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی خفیہ ایجنسی کے ٹویٹر اکاونٹس نے لورالائی واقعہ سے قبل ہی دہشتگردی کی خبری دی تھی : وسیم عباسی کا انکشاف
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث حملوں اور خطرات کی وجہ سے تقریباً بند ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، پاکستان کا نیدرلینڈز کے خلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ
موجودہ فوجی تعیناتیاں
عام حالات میں مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 40 ہزار امریکی فوجی مختلف اڈوں اور بحری جہازوں پر تعینات ہوتے ہیں، جن میں سعودی عرب، بحرین، عراق، شام، اردن، قطر، یواے ای اور کویت شامل ہیں۔ تاہم ایران کے خلاف کارروائیوں میں شدت آنے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 50 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حور جیسے خوبصورت لڑکے سے شادی کروں گی، طوبیٰ انور
یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کی صورتحال
ادھر امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ کے تقریباً 4,500 اہلکار اب اس تعداد میں شامل نہیں ہیں کیونکہ جہاز میں آگ لگنے اور دیگر مسائل کے بعد اسے 23 مارچ کو خطے سے ہٹا کر پہلے کریٹ اور پھر کروشیا بھیج دیا گیا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ جہاز کو آگے کہاں تعینات کیا جائے گا۔
82 ویں ایئر بورن ڈویژن کی تعیناتی
اس کے علاوہ پینٹاگون نے گزشتہ ہفتے "82 ویں ایئر بورن ڈویژن" کے تقریباً 2,000 پیراٹروپرز بھی مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا حکم دیا ہے، جو ایران کے قریب کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے تیار رہیں گے۔








