شادی شدہ مرد کا کسی غیر لڑکی سے تعلق جرم نہیں، بھارتی عدالت کا اہم فیصلہ
بھارتی عدالت کا اہم فیصلہ
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ شادی شدہ شخص کا بالغ خاتون کے ساتھ ’لیو ان ریلیشن‘ قائم کرنا جرم نہیں ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ سماجی اخلاقیات کو قانون کے عمل سے علیحدہ رکھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ ملک جہاں صدر کی بیٹی پر کتاب لکھنے والے مصنف کو گرفتار کر لیا گیا
قانونی حیثیت
عدالت نے کہا کہ جب تک قانون کے تحت کوئی جرم ثابت نہ ہو، کسی بھی فرد کو ’لیو ان ریلیشن‘ کی وجہ سے مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی خوشیوں میں ان کو بھی شامل کریں جو ضرورت مند ہیں: فاروق ستار
کیس کا پس منظر
یہ فیصلہ ایک فوجداری درخواست پر سماعت کے دوران سامنے آیا جس میں ایک جوڑے نے پولیس کو درج کیے گئے مقدمے کو ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 730 ملین ڈالر کے 2 اہم منصوبوں پر دستخط
درخواست گزاروں کی وضاحت
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ خاتون اپنی مرضی سے مرد کے ساتھ رہ رہی ہیں اور وہ بالغ ہیں۔ تاہم خاتون کے خاندان نے اس تعلق کی مخالفت کی اور اسے ’غیر اخلاقی‘ قرار دیتے ہوئے موت کی دھمکیاں دی تھیں، جس کے نتیجے میں جوڑے نے قتل کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کردی
عدالت کی ہدایت
عدالت نے اس دوران یہ بھی کہا کہ خاتون نے شاہجہاں پور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے پاس شکایت درج کرائی تھی لیکن پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ جوڑے کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے۔
سماجی رائے کا اثر
عدالت کا کہنا تھا کہ اگر قانون کے تحت کوئی جرم نہیں بنتا تو سماجی رائے اور اخلاقیات کو عدالت کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کا کوئی حق نہیں。








