شادی شدہ مرد کا کسی غیر لڑکی سے تعلق جرم نہیں، بھارتی عدالت کا اہم فیصلہ
بھارتی عدالت کا اہم فیصلہ
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ شادی شدہ شخص کا بالغ خاتون کے ساتھ ’لیو ان ریلیشن‘ قائم کرنا جرم نہیں ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ سماجی اخلاقیات کو قانون کے عمل سے علیحدہ رکھا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر سےتجاوز کر گئے، وفاقی وزیر خزانہ
قانونی حیثیت
عدالت نے کہا کہ جب تک قانون کے تحت کوئی جرم ثابت نہ ہو، کسی بھی فرد کو ’لیو ان ریلیشن‘ کی وجہ سے مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی وزیر اعظم کا حماس کے غزہ چیف محمد سنوار کی شہادت کا دعویٰ
کیس کا پس منظر
یہ فیصلہ ایک فوجداری درخواست پر سماعت کے دوران سامنے آیا جس میں ایک جوڑے نے پولیس کو درج کیے گئے مقدمے کو ختم کرنے کی درخواست کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کامسیٹس یونیورسٹی کے طلباء کا ڈی جی پی آر کا مطالعاتی دورہ، عوامی رابطہ کاری پر بریفنگ
درخواست گزاروں کی وضاحت
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ خاتون اپنی مرضی سے مرد کے ساتھ رہ رہی ہیں اور وہ بالغ ہیں۔ تاہم خاتون کے خاندان نے اس تعلق کی مخالفت کی اور اسے ’غیر اخلاقی‘ قرار دیتے ہوئے موت کی دھمکیاں دی تھیں، جس کے نتیجے میں جوڑے نے قتل کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: گرفتار ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کا سابقہ کرائم ریکارڈ بھی سامنے آگیا
عدالت کی ہدایت
عدالت نے اس دوران یہ بھی کہا کہ خاتون نے شاہجہاں پور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے پاس شکایت درج کرائی تھی لیکن پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ جوڑے کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے۔
سماجی رائے کا اثر
عدالت کا کہنا تھا کہ اگر قانون کے تحت کوئی جرم نہیں بنتا تو سماجی رائے اور اخلاقیات کو عدالت کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کا کوئی حق نہیں。








