ناکام بھارت اور جے شنکر کا سفارت کاری سے فرار
عالمی بحران اور سفارتی ذمہ داریاں
امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ کے دوران دنیا اس وقت ایسے نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں ایک غلط بیان، ایک غیر ذمہ دارانہ پالیسی یا ایک سفارتی لغزش پوری دنیا کے امن کو ہلا سکتی ہے۔ ایسے میں ریاستوں کے وزرائے خارجہ کا کردار محض نمائشی نہیں بلکہ عالمی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے والا ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کہ بھارت کے وزیرِ خارجہ جے شنکر کا حالیہ بیان نہ صرف اس ذمہ داری سے فرار ہے بلکہ سفارت کاری کے بنیادی آداب کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نوکیا کا مقبول ترین بٹنوں والا فون 4 جی ٹیکنالوجی کے ساتھ لانچ کردیا گیا
بھارتی وزیرِ خارجہ کا بیان
جے شنکر نے کہا کہ “بھارت عالمی سیاست میں کسی “دلال” ریاست کا کردار ادا نہیں کرے گا” اور “بھارت عالمی بحران میں ثالثی نہیں کرے گا” یہ جملے ہی ان کے مقام، ذہنی سطح اور سفارتی شعور کا تعین کرنے کے لیے کافی ہیں۔ سفارت کاری کو “دلالی” کہنا دراصل ذہنی پستی کی علامت ہے، دنیا بھر میں ثالثی، مکالمہ اور تنازعات کے حل کی کوششیں ریاستوں کی اخلاقی برتری سمجھی جاتی ہیں مگر بھارت کی موجودہ قیادت انہیں بازاری زبان میں بیان کر کے اپنی فکری کم مائیگی کو خود ہی بے نقاب کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں ’’اہم بیٹھک ‘‘
بھارتی خارجہ پالیسی کا تجزیہ
بھارت خود کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے مگر جب میدان لگتا ہے تو مات کھا جاتا ہے، پاکستان کی جانب سے آپریشن بنیان مرصوص میں بھارت کا ایسا آپریشن ہوا ہے کہ ان کا سندور واقعی اجڑ گیا ہے، اسی طرح سفارتی کردار ادا کرنے کا وقت آتا ہے تو بھارتی پالیسی میں ہٹ دھرمی، بے حسی اور ناپختگی نمایاں ہو جاتی ہے۔ ثالثی سے انکار دراصل امن سے انکار ہے، یہ وہ رویہ ہے جو ایک responsable ریاست نہیں بلکہ مودی نما ایک خود پسند حکومت اختیار کرتی ہے جو عالمی بحرانوں کو محض تماشائی کی نظر سے دیکھنے پر اکتفا کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معاہدے کے تحت رہائش فراہم نہ کیے جانے کا نوٹس، سعودی وزارت حج و عمرہ نے مقامی کمپنی اور بیرون ملک ایجنٹ کی سروسز معطل کردیں۔
پاکستان کی کامیاب سفارتکاری
سفارت کاری کا اصل جوہر یہی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی مکالمے کے دروازے کھلے رکھے جائیں اور پاکستان اس میں ہمیشہ کامیاب رہا ہے اور موجودہ حالات میں اپنی بہترین سفارتکاری کی بدولت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے لیکن بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی اس کے برعکس ایک سخت گیر، غیر لچکدار اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا پی آئی اے کی نجکاری کیلئے نئے اشتہارِ دلچسپی کا اعلان
امن کی تلاش میں عالمی ذمہ داری
جے شنکر کا بیان نہ صرف سفارتی کمزوری کا اعتراف ہے بلکہ عالمی برادری کو یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ بھارت امن کے بجائے طاقت کی سیاست کو ترجیح دیتا ہے۔ ایسے بیانات عالمی امن کے لیے خطرناک ہیں کیونکہ یہ تنازعات کو سلجھانے کے بجائے مزید پیچیدہ کرتے ہیں۔ جو حکومتیں مکالمے کو کمزوری اور ثالثی کو “دلالی” سمجھتی ہیں وہ دنیا کے لیے خیرخواہ نہیں ہو سکتیں۔
عالمی برادری کی ذمہ داری
عالمی برادری کو چاہئے کہ بھارت کی اس ہٹ دھرمی کو سنجیدگی سے لے اور اسے یاد دلائے کہ امن کی کوششیں کمزوری نہیں بلکہ اخلاقی اور سیاسی برتری کی علامت ہوتی ہیں۔ سفارت کاری کو بازاری زبان میں بیان کرنے والے رہنما نہ دنیا کی رہنمائی کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنے ملک کی ساکھ کو بلند کر سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








