سیف سٹی ای چالان نظام غیر آئینی اور استحصالی ہے، لاہور ہائیکورٹ میں قانون کی طالبعلم جمیلہ فاطمہ نے آئینی درخواست دائر کر دی
لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں قانون کی طالب علم جمیلہ فاطمہ نے آئینی درخواست دائر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچے کو مار کر گھر میں دفنانے والے والدین کے ظلم کی ناقابل یقین داستان
سیف سٹی ای چالان نظام کی مخالفت
درخواست میں سیف سٹی ای چالان نظام کو غیر آئینی اور استحصالی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا گیا ہے کہ پنجاب کا خودکار ای چالان رجیم بنیادی حقوق، منصفانہ ٹرائل اور آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10-A، 14، 15، 23، 24 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر آٹھ آٹھ ہزار کے جرمانے کیے جا رہے ہیں، سیف سٹی نظام اب ایک ''ریونیو مشین'' بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو ایک سال پہلے الیکشن کی آفر دینے کی بات درست نہیں، رانا ثنا اللہ
معصوم مالکان کے خلاف چالان
درخواست میں جعلی اور کلون نمبر پلیٹس پر معصوم مالکان کے خلاف چالان، حکومت کی خاموشی، نظام کو ''ثبوت کے بغیر سزا'' کا ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے۔ ای چالان کو ایکسائز، ٹوکن ٹیکس اور ٹرانسفر سے لنک کر کے شہریوں سے زبردستی رقوم وصولی کی جا رہی ہے، اور عدالت سے اس جبری extortion کو روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں موت کا ننگا ناچ
شہریوں کی پرائیویسی کی خلاف ورزی
آئینی درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ بغیر ڈیٹا پروٹیکشن قانون کے مسلسل کیمرہ نگرانی، شہریوں کی پرائیویسی اور عزتِ نفس پر حملہ اور آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔ پنجاب سیف سٹی ای چالان نظام پر اندازاً 6 ارب روپے عوام سے وصولی اور رقم کے استعمال اور کیمروں کی درستگی کے ریکارڈ پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کی 18 رکنی کابینہ نے حلف اٹھالیا
لاہور ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی پنجاب موٹر وہیکل آرڈیننس 2025 کی آئینی حیثیت پر سماعت کر رہی ہے، اور نیا کیس اسی پس منظر میں دائر کیا گیا ہے۔ اہم پیش رفت یہ ہے کہ جمیلہ فاطمہ کی رِٹ پٹیشن کو ارجنٹ قرار دے کر کل جسٹس فاروق حیدر کے روبرو سماعت کیلئے فکس کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کی ناکامی
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ انتظامیہ مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اب صرف فوری آئینی عدالتی مداخلت ہی شہریوں کو غیر قانونی مالی استحصال اور ہراسانی سے بچا سکتی ہے۔








