توانائی کی تنصیبات پر حملے عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہیں: مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا عالمی توانائی کانفرنس سے خطاب
مصری صدر کی امریکی صدر سے درخواست
قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ رکوانے کی اپیل کردی۔
یہ بھی پڑھیں: یونان کشتی حادثہ میں مزید پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق، زندہ بچ جانیوالوں کے ہوشربا انکشافات
توانائی کانفرنس میں خطاب
قاہرہ میں عالمی توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، مصری صدر نے کہا کہ میں صدر ٹرمپ سے کہتا ہوں کہ خلیجی خطے میں جنگ کو آپ کے سوا کوئی نہیں روک سکتا۔ توانائی کی تنصیبات پر حملے عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور کینیڈا کے درمیان معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اپیل کا مطلب
’’جنگ‘‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ خلیجی خطے میں جاری جنگ کو روکنے میں کردار ادا کریں۔ میرے مطابق وہی اس جنگ کو ختم کراسکتے ہیں، انسانیت اور امن کے نام پر امریکی صدر ایسا کریں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے نیدرلینڈز کی سفیر ہینی ڈی ویریس کی ملاقات، عوامی روابط کے قیام پرتبادلۂ خیال
جنگ کے اثرات
خطاب کے دوران عبدالفتاح السیسی نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوگئی اور قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرسکتی ہیں، جس سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔
ایرانی حملوں کی مذمت
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی تنصیبات پر حملے عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہیں، ہم نے ایرانی حملوں کی مذمت کی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔








