توانائی کی تنصیبات پر حملے عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہیں: مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا عالمی توانائی کانفرنس سے خطاب
مصری صدر کی امریکی صدر سے درخواست
قاہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ رکوانے کی اپیل کردی۔
یہ بھی پڑھیں: پڑوسی ملک میں جعلی عدالت کا انکشاف، 5 سال تک جعلی جج، وکیل اور اردلی متحرک رہے لیکن بھانڈا کیسے پھوٹا؟ جانئے
توانائی کانفرنس میں خطاب
قاہرہ میں عالمی توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، مصری صدر نے کہا کہ میں صدر ٹرمپ سے کہتا ہوں کہ خلیجی خطے میں جنگ کو آپ کے سوا کوئی نہیں روک سکتا۔ توانائی کی تنصیبات پر حملے عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مُعروف سعودی سوشل میڈیا انفلوئنسر ابو مرضع المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق
اپیل کا مطلب
’’جنگ‘‘ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ خلیجی خطے میں جاری جنگ کو روکنے میں کردار ادا کریں۔ میرے مطابق وہی اس جنگ کو ختم کراسکتے ہیں، انسانیت اور امن کے نام پر امریکی صدر ایسا کریں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا، وکیل سلمان صفدر کی وضاحت
جنگ کے اثرات
خطاب کے دوران عبدالفتاح السیسی نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوگئی اور قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرسکتی ہیں، جس سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا۔
ایرانی حملوں کی مذمت
ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی تنصیبات پر حملے عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہیں، ہم نے ایرانی حملوں کی مذمت کی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔








