آئینی عدالت نے وزیر اعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی سے عمران خان رہائی فورس کی تشکیل پر جواب طلب کرلیا
اسلام آباد میں اہم سماعت
وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے مبینہ “رہائی فورس” کی تشکیل کے معاملے پر جواب طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: سٹاک مارکیٹ تاریخ میں پہلی بار 122000 پوائنٹس کا سنگ میل عبور کرگئی
درخواست کی سماعت
عدالت میں اس حوالے سے دائر درخواست پر سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے اپنے مؤقف کے حق میں متعلقہ شواہد اور دستاویزات عدالت میں پیش کیں۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا مقابلہ ڈاکوؤں سے ہے، جبکہ انہوں نے اس ضمن میں دھمکیوں سے متعلق مختلف مضامین اور امن و امان کے حوالے سے کراچی ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے متاثر ہونے والے متوقع اضلاع میں ہائی الرٹ کر دیا: مریم اورنگزیب
کابینہ کی منظوری کا سوال
سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ آیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کے قیام کی منظوری دی گئی ہے یا نہیں۔ اس پر وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ کابینہ نے اس قسم کی کسی فورس کی اجازت نہیں دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت اس امر کو یقینی بنائے کہ کسی بھی سطح پر قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔
چیف جسٹس کے ریمارکس
بعد ازاں عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سے وضاحت طلب کر لی۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ کسی سزا یافتہ فرد کے لیے اس نوعیت کی فورس قائم نہیں ہونی چاہیے، اور اس معاملے کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔








