پولینڈ کی یونیورسٹی آف لوڈز کی ڈاکٹر ماریہ الینورا کی چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی سے خصوصی ملاقات
ملاقات کا آغاز
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کے ہیڈ آفس لاہور میں، چیئرپرسن حنا پرویز بٹ اور پولینڈ کی یونیورسٹی آف لوڈز کی ڈاکٹر ماریہ الینورا کے درمیان خصوصی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کا مقصد خواتین کے تحفظ اور بالخصوص گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین کی بحالی پر بات چیت کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جھنگ کے سیلاب سے متاثرہ دیہاتوں میں ہلال احمر کی امدادی سرگرمیاں جاری
آرٹ تھراپی پراجیکٹ کا آغاز
ملاقات کے دوران گھریلو تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے مشترکہ آرٹ تھراپی پراجیکٹ شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس مجوزہ منصوبے کے تحت، متاثرہ خواتین کو اپنی مشکلات کا مثبت طریقے سے بیان کرنے اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لئے تخلیقی طریقہ کار فراہم کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 15 Years Later: Punjab Chief Minister’s First Visit to Bank of Punjab Headquarters Sets Target for Top Ranking
آرٹ تھراپی کی اہمیت
چیئرپرسن حنا پرویز بٹ نے کہا کہ آرٹ تھراپی متاثرہ خواتین کے لئے ایک مؤثر ذریعہ ہے تاکہ وہ خاموش صدمے سے نکل سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین کی بحالی صرف قانونی مدد تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ نفسیاتی اور جذباتی لحاظ سے بھی بحالی اتنی ہی اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عامر خان نے اپنی فلم ‘لال سنگھ چڈھا’ کے ناکام ہونے کی وجہ بتادی
مقامی ثقافت کا استعمال
حنا پرویز بٹ نے مزید کہا کہ مقامی ثقافت، روایتی رنگوں اور علامتوں کا استعمال بحالی کے عمل کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔ بین الاقوامی علمی و تخلیقی تعاون خواتین کے تحفظ کے نظام کو مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زوہیب پاکستان ٹینس رینکنگز میں انڈر 14 کیٹگری کے نمبر 1 کھلاڑی بن گئے
زیر بحث اقدامات کی تعریف
ڈاکٹر ماریہ الینورا نے اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حنا پرویز بٹ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں طرف سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خواتین کو محفوظ، بااعتماد اور باوقار زندگی کی طرف لانے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
حکومتی عزم
حنا پرویز بٹ نے واضح کیا کہ "خواتین کے لیے محفوظ پنجاب" فقط ایک نعرہ نہیں ہے بلکہ یہ حکومت پنجاب کا عملی عزم ہے۔ پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی خواتین کے تحفظ، بحالی اور بااختیار بنانے کے لئے مسلسل کام کر رہی ہے۔








