فرانس نے انڈیا کو رافیل کا سورس کوڈ دینے سے انکار کر دیا
رافیل طیاروں کا سافٹ ویئر سورس کوڈز: فرانس کا انکار
پیرس (ڈیلی پاکستان آن لائن) دفاعی سیکیورٹی ایشیا نامی ویب سائٹ کے مطابق، فرانس نے بھارت کو رافیل لڑاکا طیارے کے بنیادی سافٹ ویئر سورس کوڈز تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ انکار نئی دہلی کی فضائی خودمختاری کی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا شمار کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا سی ایم ایچ ہسپتال کا دورہ، پاک فوج کے غازیوں کی عیادت کی
فرانسیسی جریدے کی رپورٹ
فرانسیسی کاروباری جریدے L’Essentiel de l’Éco کی رپورٹ کے مطابق، یہ انکار خاص طور پر رافیل طیارے کے حساس نظاموں سے متعلق ہے، جن میں Thales RBE2 AESA radar، Modular Data Processing Unit (MDPU) اور SPECTRA electronic warfare suite شامل ہیں۔ یہ تینوں سسٹمز مل کر طیارے کی سینسر فیوژن، بقا کی صلاحیت اور الیکٹرانک جنگی استعداد کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عائشہ جہانزیب کے بارے میں نامناسب گفتگو کرنے والے ملزم حسیب سجاد کی ضمانت کی درخواست مسترد
حساس سافٹ ویئر سسٹمز پر کنٹرول
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی حکام ان سافٹ ویئر سسٹمز کو نہایت حساس اور کئی سالوں کی تحقیق کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ ان پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس فیصلے کے باعث بھارت رافیل طیاروں میں کسی بھی قسم کی خودمختار تکنیکی تبدیلی یا اپ گریڈ کرنے سے قاصر رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریکِ انصاف کی سیاست دوسرے صوبوں میں مداخلت تک محدود ہو چکی ہے، عابد شیر علی
مزید رافیل طیاروں کی خریداری
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اپنے ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ پروگرام کے تحت مزید 114 رافیل طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے۔ متوقع معاہدے کی مالیت تقریباً 36 ارب امریکی ڈالر ہے، جو جدید دفاعی تاریخ کے بڑے سودوں میں شمار ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس فراڈ کے مخصوص کیسز پر ہی گرفتاری ہوگی: وزیر مملکت خزانہ نے وضاحت کردی
ہتھیاروں کا اندراج اور خودمختاری
ذرائع کے مطابق، سورس کوڈز تک رسائی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ بھارت اپنے مقامی ہتھیاروں کو رافیل میں مکمل خودمختاری کے ساتھ شامل نہیں کر سکے گا۔ مثال کے طور پر، ایسٹرا میزائل یا براہموس میزائل جیسے ہتھیاروں کی انضمام کے لیے اسے ہر بار فرانسیسی کمپنیوں، خصوصاً داسالٹ ایوی ایشن کی منظوری درکار ہوگی۔
بھارتی فضائیہ کی خودمختاری
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیشرفت بھارت کی اس دیرینہ کوشش کو متاثر کر سکتی ہے جس کے تحت وہ اپنی فضائیہ کو مکمل طور پر خودمختار اور مقامی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کے قابل بنانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب فرانس کا مؤقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی حساس دفاعی ٹیکنالوجی پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔








