آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر تجارتی اخراجات میں کتنا اضافہ ہوا۔ اہم تفصیلات جانیے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی تجارتی اخراجات
لاہور (خصوصی رپورٹ) آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر تجارتی اخراجات میں کتنا اضافہ کیا ہے؟ اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں ڈھیروں سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات
’’انڈسٹری ڈیٹا‘‘ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر تجارت کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ خلیج میں حملوں کے خدشے کی وجہ سے کئی جہاز طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایندھن اور سامان کی ترسیل کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پین کی تحریر والے کرنسی نوٹوں سے متعلق خبروں پر سٹیٹ بینک کی وضاحت آگئی
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
’’جنگ‘‘ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ تیل کی سپلائی میں کمی نے بحری جہازوں کے ایندھن کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خلیل الرحمٰن قمر کو نازیبا ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی، ڈیڑھ کروڑ تاوان کا مطالبہ
ہاپاگ لائیڈ کی صورتحال
ہاپاگ لائیڈ کے چیف ایگزیکٹیو رولف ہیبن جانسن کے مطابق، کمپنی کو خلیج اور اس کی طرف بکنگ روکنا پڑی ہے کیونکہ اس طرف جہازوں کی آمد و رفت ممکن نہیں رہی۔ جنگ کے باعث کمپنی کے اخراجات میں ہفتہ وار 40 سے 50 ملین ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے، جس میں ایندھن، انشورنس، کنٹینر اسٹوریج اور اندرونِ ملک ٹرانسپورٹ کے اخراجات شامل ہیں۔ اس وقت کمپنی کے 6 جہاز استعمال کے قابل نہیں رہے، جس کی وجہ سے مجموعی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس ممالک کو خبر دار کردیا
چارٹرنگ لاگت میں نمایاں اضافہ
رپورٹ کے مطابق، تیل بردار جہازوں کی چارٹرنگ لاگت بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ بڑے سوئز میکس خام تیل بردار جہاز کی یومیہ آمدن، جو چارٹر لاگت کا ایک بالواسطہ پیمانہ ہے، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد 3 گنا سے بھی زیادہ بڑھ کر 3 لاکھ 30 ہزار ڈالرز سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ مائع قدرتی گیس لے جانے والے جہازوں کی آمدن بھی اسی عرصے میں 90 ہزار ڈالرز یومیہ تک پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا کہنا ہے قوم خود کو تیار کر لے، اب آزادی یا موت کا وقت آگیا ہے، علیمہ خان
ترسیل کی لاگت میں اضافے کی وجوہات
ایس اینڈ پی گلوبل انرجی کموڈٹی کمپنی میں مال برداری کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ماہر پیٹر نورفولک نے میڈیا کو بتایا کہ خلیج سے چین تک خام تیل کی ترسیل کی لاگت فروری کے آخر میں 46 ڈالرز فی میٹرک ٹن سے بڑھ کر چند دنوں میں تقریباً 3 گنا ہو گئی تھی، لیکن پھر مارچ کے آخر میں کچھ کمی کے بعد 64 ڈالرز کے قریب رہی۔
یہ بھی پڑھیں: ترکی اور مصر 13 برس بعد پہلی بار مشترکہ بحری مشقیں کریں گے
کنٹینرز کی ترسیل کے اخراجات
کنسلٹنسی میری ٹائم سروسز انٹرنیشنل کے مطابق، کنٹینرز کی ترسیل کے اخراجات میں بھی 20 سے 25 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بعض روٹس پر وار سرچارجز لگنے کی وجہ سے نرخوں میں تقریباً 200 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث کمپنیوں نے بکنگ معطل کر دی ہے اور مال کو متبادل محفوظ ہبز پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ جہازوں کے ایندھن یعنی بنکر فیول کی قیمت بھی تقریباً دگنی ہو گئی ہے اور مارچ میں 1053 ڈالرز فی میٹرک ٹن کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، جب کہ مہینے کے آخر میں یہ 936 ڈالرز کے قریب رہی۔
انشورنس کے اخراجات میں اضافہ
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انشورنس کے اخراجات میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے، جنگی خطرے کی بیمہ گزشتہ ہفتے جہاز اور سامان کی مجموعی قیمت کے 10 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس سے شپنگ انڈسٹری پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔








