خطرناک بات یہ تھی کہ کوبرا سانپ بکثرت گرمی کے موسم میں اکیڈمی کے گرد و نواح سے نکلتے اور گھروں کی زیارت کو ضرور آتے۔ سبھی مارے جاتے۔
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 486
یہ بھی پڑھیں: نمبرز پورے ہیں، آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کی کوششیں کررہے ہیں:عطا تارڑ
نئی سہولیات کا آغاز
کافی اور گرلڈ چکن؛ ملک اسحاق کو ہدایت کی کہ وہ نئے کمبل، نئی بیڈ شیٹ خریدیں۔ خود اس کے ساتھ بازار گیا۔ نئی کرا کری خریدی اور اس پر لوکل گورنمنٹ اکیڈمی کا نشان کندہ کرایا۔ میس کے “کامن روم“ کے لئے نئے پردے اور نئی 60 انچ کی ایل سی ڈی لگوائی۔ پرانا ٹی وی ریسٹ ہاؤس میں رکھوا دیا۔ صوفوں پر نئے کپڑے چڑھوائے۔ چند بنیادی تبدیلیوں سے ان جگہوں کی “لک” ہی بدل گئی۔ کامن روم تو جاذب نظر ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 15 سال کی تھی جب ٹرمپ نے زیادتی کی کوشش کی، نئی ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر پر خاتون سے زیادتی کا الزام
ریسٹ ہاؤس میں رہائش
ریسٹ ہاؤس کا ایک کمرہ میں نے اپنی رہائش کے لئے منتخب کیا حالانکہ ڈائریکٹر کا اپنا وسیع بنگلہ جو عرصہ سے بند پڑا تھا۔ لالہ موسیٰ اکیڈمی کی خطرناک بات یہ تھی کہ یہاں کوبرا سانپ بکثرت گرمی کے موسم میں اکیڈمی کے گرد و نواح سے نکلتے اور گھروں کی زیارت کو ضرور آتے تھے۔ اچھی بات یہ تھی کہ سبھی مارے ہی جاتے۔ مجھے اس موزی سے ہمیشہ ہی بہت ڈر لگتا رہا لہٰذا میں نے ریسٹ ہاؤس کے کمرے میں رہنے کو ترجیح دی اور قانون کے مطابق بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ (زاہد اقبال ایس ڈی او بلڈنگ گجرات تھا) سے اس کمرے کا کرایہ نوٹیفائی کرایا اور اپنے قیام کے دوران باقاعدگی سے ادا کرتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بینچ نے سرکاری ملازمین کی غیرملکی سے شادی کیخلاف درخواست 20ہزار جرمانے کیساتھ خارج کردی
قاری اور آرام دہ جگہ
بعد میں قاری جب یہاں آیا تو ہم دونوں اسی کمرے میں رہے، لیکن اسے بھی علیحدہ کمرہ الاٹ کیا تھا اور قاری بھی باقاعدگی سے اس کا ماہانہ کرایہ ادا کرتا۔ ریسٹ ہاؤس کے 3 کمروں میں اے سی لگوائے گئے اور یہ کسی بھی مہمان کے رہنے کے لئے آرام دہ جگہ بن گئی تھی جہاں ساری سہولتیں موجود تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت نے خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ کیس کا تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا
کئیر ٹیکر کی خدمات
ریسٹ ہاؤس کا کئیر ٹیکر خلیل بوڑھا، سست اور باریش آ دمی تھا۔ اس کا والد بھی یہاں کک تھا اور چھوٹا بھائی بھی یہیں ملازم۔ اسے میں نے سوپ بنانا، چکن گرل کرنا اور کافی کو گھوٹا لگانا سکھایا۔ بعد میں وہ ان چیزوں میں ماہر ہو گیا اور میری روایتی کھانوں سے جان بچی رہی۔ رات کے کھانے میں سبزی کا سوپ اور گرلڈ چکن ہوتا، کبھی وہ چکن کارن سوپ بنا لیتا۔ ناشتے میں ابلا انڈہ اور خالص دودھ کی پیالی ہوتی۔ یہ دودھ مالی عاصم کے گھر سے آتا، جسے باقاعدہ ادائیگی کی جاتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے نئے سیکیورٹی سربراہ محمد باقر ذوالقدر کون ہیں، علی لاریجانی کے بعد ذمہ داری کیوں سونپی گئی؟
ایڈمن اور اکیڈمیک بلاک کی توجہ
ہوسٹل، میس اور ریسٹ ہاؤس کی معاملات درست کرکے میری توجہ اب ایڈمن اور اکیڈمیک بلاک پر تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور شیرافضل مروت کی دھاندلی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور
اکیڈمک بلاک کا معیار
اکیڈمک بلاک میں دو کلاس روم جدید سامان تربیت سے لیس تھے لیکن روشنی مناسب نہیں تھی جبکہ دوسرے کلاس روم کا اے سی درست کام نہیں کرتا تھا۔ ان کلاس رومز کی کمی بیشی کو پورا کرکے اب سو افراد کی گنجائش والے آڈیٹیوریم کی باری تھی۔ یہاں قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بڑے جاذب نظر دیو ہیکل پورٹریٹ لگوائے گئے اور دو دو ٹن کے دو اے سی لگوا کر کسی بھی تقریب کے لئے مناسب جگہ بنا دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کبڈی فیڈریشن نے بھارتی ٹیم کی طرف سے کبڈی میچ کھیلنے والے عبیداللّٰہ راجپوت کو طلب کر لیا
سردیوں کی تیاری
سردیوں کی آمد تھی اور لالہ موسیٰ میں سردی بھی شدید ہوتی تھی کہ آزاد کشمیر بھی یہاں سے زیادہ دور نہیں اور سمانی کا پہاڑی سلسلہ بھی قریب تھا۔ اکیڈمی شہر سے تین کلومیٹر دور 2 مربع زمین پر مشتمل کھلی جگہ واقع ہے۔ درختوں اور سبزے کی وجہ سے یہاں کی سردی لاہور کی نسبت 2 سے 3 ڈگری زیادہ ہی ہوتی تھی۔ تمام کلاس رومز میں ہیٹر کا بندوبست کیا گیا۔ اکیڈمی کا سٹاف جن کمروں میں بیٹھتا تھا ان کی چھتیں اونچی تھیں اور یہ کافی ٹھنڈے کمرے تھے، وہاں بھی ہیٹر کا بندوست کرکے اب اگلے مرحلے میں میٹنگ اور ہسٹری رومز کا قیام تھا۔ اکیڈمی کا کوئی کانفرنس روم نہ تھا۔ اکیڈمی کی وسیع لائبریری 2 کمروں کو جوڑ کر بنائی گئی تھی۔ انہی میں سے ایک میں 1988ء میں تربیت حاصل کرنے آیا تھا۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








