حکومت کا توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ
مارکیٹوں کی بندش کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا سینئر صحافی رضوان الرحمٰن کی والدہ کے انتقال پر اظہار افسوس
اجلاس میں موجودہ صورتحال کا جائزہ
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پیدا ہنگامی حالات میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے کفایت شعاری اقدامات کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور بازار رات آٹھ بجے بند کرنے کا فیصلہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اعتماد میں لے کر کیا گیا اور اس کا اعلان بھی صوبے خود کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکارہ زرین خان کی والدہ انتقال کر گئیں
وزیراعظم کا خطاب
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت خطے کی صورتحال اور پٹرول بحران پر اجلاس ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان کے وزرا اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی۔
اس موقع پر کفایت شعاری اور توانائی بچت اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اسحاق ڈار نے دورہ چین پر بریفنگ دی اور ایران امریکہ مذاکرات پر ثالثی کوششوں سے آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ غیر آئینی نہیں اور اگر یہ بات غداری ہے تو اس شق کو آئین سے نکال دیں، خالد مقبول صدیقی
معاشی مشکلات اور قومی یکجہتی
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں خطے میں جنگ کے باعث معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور مل کر چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی، وفاق اور صوبے کم اہم منصوبوں کو روکیں تاکہ عام آدمی کا تحفظ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
توانائی کی بچت کے اقدامات
کفایت شعاری کرکے فنڈز جمع کرنا ہوں گے، زرعی شعبے، پبلک و گڈز ٹرانسپورٹ کو بچانا ہو گا تاکہ عام آدمی مہنگائی سے کم سے کم متاثر ہو۔ پاکستان جنگ بندی کے لیے حتی المقدور کوشش کر رہا ہے، اللہ کے فضل و کرم سے اس میں کامیابی حاصل ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: ظفروال؛ کسانوں نے بھارتی نسل کے 10 فٹ لمبے کوبرا سانپ کو پکڑ کر مار دیا
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ محنتی کسانوں، مزدوروں اور دکانداروں کے لیے بے پناہ معاشی بوجھ تھا لیکن انہوں نے اس کو برداشت کیا۔ اجتماعی اور بھرپور کوششوں سے ہم نے بروقت صورتحال کا ادراک کیا اور اقدامات اٹھائے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے خلاف آپریشن کی رات ہسپتالوں کی کیا صورتحال تھی؟ پاکستانی ڈاکٹر کی بی بی سی سے گفتگو
حکومت کی مالی چالاکی
صدرآصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے بھی شکرگزار ہیں۔ وفاقی حکومت نے تین ہفتوں میں 129 ارب روپے کا بوجھ اٹھایا۔ پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی اور تمام اخراجات وفاق نے برداشت کیے ہیں۔
مل کر عمل کرنے کا وقت
وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر تعاون کریں، کفایت شعاری مہم میں صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری، وزرائے اعلیٰ اور ارکان پارلیمنٹ کے کردار کو سراہتے ہیں۔








