پاکستان مشرقِ وسطیٰ کو لیبر برآمدات بڑھانے کے لیے نئی حکمت عملی بنا رہا ہے: عرب نیوز
پاکستان کی نئی حکمت عملی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عرب نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کے لیے نئی حکمتِ عملی تیار کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم فوج کا احترام کرتے ہیں، پھر بھی ڈی چوک میں احتجاج ہمارا حق ہے: بیرسٹر سیف
یومیہ افرادی قوت میں کمی
ایک سرکاری عہدیدار نے اس ہفتے بتایا کہ ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی اور پروازوں میں خلل کی وجہ سے مارچ میں بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی کارکنوں کی تعداد میں 10 ہزار کی کمی ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور اصل حقیقت
محنت کشوں کی ترجیحات
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور عمان پاکستانی محنت کشوں کے لیے پسندیدہ مقامات ہیں۔ ہر سال ہزاروں ہنرمند اور غیر ہنرمند پاکستانی ان ممالک کا رخ کرتے ہیں تاکہ روزگار حاصل کر سکیں اور وطن میں اپنے خاندانوں کو رقوم بھیج سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے ایران سے متعلق بیان پر چین کا ردعمل بھی آگیا
حکومتی اقدامات
وزارتِ سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کے سیکریٹری ندیم اسلم چوہدری کے مطابق جنگ کے باعث ابھی تک خلیجی ممالک سے پاکستانی کارکنوں کی بڑے پیمانے پر واپسی دیکھنے میں نہیں آئی۔ تاہم، انہوں نے بتایا کہ جہاں ہر ماہ تقریباً 60 ہزار کارکن بیرونِ ملک جاتے تھے، وہ تعداد مارچ میں کم ہو کر 50 ہزار رہ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں یکساں نظام تعلیم فوری نافذ کرنا چاہیے، بے ایمانی کے خلاف زیرو ٹالرینس ہونی چاہیے، بچے کو تربیت دے کر مائنڈ سیٹ مستحکم کرنا چاہیے
ترسیلات زر کی اہمیت
انہوں نے اس کمی کی وجہ علاقائی کشیدگی کے ساتھ ساتھ پروازوں کی محدود دستیابی کو قرار دیا۔ حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطحی مشاورت کے ذریعے نئی حکمت عملی تیار کر رہی ہے، جس میں تعمیرات اور صحت کے شعبوں میں نئے مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کمزور ہو چکے ہیں، جو ریاست اور حکومت کیلئے فائدہ مند ہے، ماجد نظامی کا تجزیہ
معاشی اثرات
سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ فروری میں پاکستان کو 3.3 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا تھا۔ حکام کے مطابق اپریل کے اعداد و شمار سے جنگ کے معاشی اثرات کا بہتر اندازہ ہو سکے گا، تاہم ترسیلات میں معمولی کمی کے باوجود استحکام برقرار رہنے کی توقع ہے۔
مستقبل کی توقعات
گزشتہ سال پاکستان نے تقریباً 7 لاکھ 63 ہزار افراد خلیجی ممالک کو بھیجے، جبکہ رواں سال کے لیے ہدف 8 لاکھ رکھا گیا تھا، جس میں موجودہ حالات کے باعث ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔








