پاکستان اس مہینے امارات کے 2 اور یورو بانڈ کے 1.3 ارب ڈالر واپس کرے گا۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مالی تعلقات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس 17 اپریل کو 6 فیصد سود کے ساتھ واپس کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 8 اپریل 2026 کو یورو بانڈ کی مدت پوری ہونے پر 1.3 ارب ڈالر بھی ادا کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کے لیے ’’ٹف ٹائم‘‘۔۔۔ امریکہ سے تجارتی معاہدے کے خلاف بھارتی کسانوں نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کر دیا، کل ہڑتال ہوگی
مجموعی واجبات
مجموعی طور پر پاکستان کو اصل رقم اور منافع سمیت 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا ہوں گی، جبکہ متحدہ عرب امارات کے مزید 1 ارب ڈالر کے ڈپازٹس جولائی 2026 میں واجب الادا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر مسلم لیگ ن کا حیران کن ردعمل آگیا۔
سرکاری ذرائع کی معلومات
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان ممکنہ طور پر 3 ارب ڈالر کی پوری رقم ایک ساتھ واپس کرنے کو ترجیح دے سکتا ہے۔ حکومت نے متحدہ عرب امارات کو اس رقم کی مدت بڑھانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی مگر بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر اب واپسی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی اداکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھارت میں بلاک کر دیئے گئے
عبوری مالی معاونت کی کوششیں
ذرائع کے مطابق اسلام آباد دوست ممالک سے عبوری مالی معاونت (بریج فنانسنگ) حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم ابھی تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: ججز میں تنازع ہے، میں کیوں دکھاوا کروں کہ تنازع نہیں ہے؟ جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے ریمارکس
وزیراعظم کی تصدیق
وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے جمعہ کی شام دی نیوز کو تصدیق کی کہ حکومت متحدہ عرب امارات کے ڈپازٹس مقررہ تاریخ پر واپس کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات نے ثابت کیا کہ مستقبل انتظار نہیں کرتا اسے تخلیق کیا جاتا ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی قومی دن پر مبارکباد
ماضی میں توسیع
یاد رہے کہ دی نیوز انٹرنیشنل نے فروری 2026 میں رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں 2 ماہ کی توسیع کی منظوری دی تھی، جس کی نئی تاریخ 17 اپریل 2026 تھی، تاہم اب حکومت نے سود سمیت اس رقم کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے۔
رول اوور کی تاریخیں
اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے 2 ارب ڈالر کو صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کیا تھا، جس میں ایک ارب ڈالر کی مدت 16 فروری اور باقی ایک ارب ڈالر کی 22 فروری کو ختم ہوئی تھی۔ پاکستانی حکومت نے پہلے 2 سال کے لیے توسیع کی درخواست دی تھی اور بعد میں مزید مہلت کے لیے نئی درخواست بھی دی تھی۔








