جنگی طیارے کی تباہی سے ایران مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے، ٹرمپ
ٹرمپ کا بیان
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایف 16 طیارے کی تباہی کے باوجود ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال جنگی نوعیت کی ہے اور ایسے حالات میں اس طرح کے واقعات غیر معمولی نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: ربیع الاول کا چاند نظر نہیں آیا، 12 ربیع الاول ہفتہ 6 ستمبر کو ہوگی
جنگ کی صورتحال
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ جنگ ہے اور ہم حالتِ جنگ میں ہیں، جنگی طیارے کی تباہی سے سفارتی عمل متاثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی اس بات کا تعین نہیں کیا جا سکتا کہ لاپتا عملے کے رکن کو کوئی نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میرے پاس اپنا جیولن نہیں، ارشد بھائی سے جیولن ادھار مانگ کر پریکٹس کرتا ہوں، سلور میڈلسٹ یاسر سلطان
ایرانی دعوے
یاد رہے کہ ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے امریکا کے تین جدید ترین لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ان طیاروں کے عملے کو ریسکیو کرنے کے لیے آنے والے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر بھی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں عملہ زخمی ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان محفوظ اور خوشحال علاقائی ماحول کی تعمیر کا خواہاں ہے، پیچیدہ خطرات کے اس دور میں فوجی تعاون ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر
پاسدارانِ انقلاب کے دعوے
پاسدارانِ انقلاب گارڈز کے مطابق امریکا کے جدید ایف 35 طیارے کو وسطی ایران میں نشانہ بنایا گیا جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک اے 10 طیارہ بھی تباہ کیا گیا، قیشم جزیرہ کے قریب ایرانی بحریہ نے ایک امریکی جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی عہدیدار کی تصدیق
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر ایجنسی کو امریکی لڑاکا طیارے گرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور عالمی برادری گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔








