پھول جہاں کِھلتے ہیں
دنیا کی فضاؤں میں بارود کی بو
دنیا کی فضاؤں میں بارود کی بو ہے، یہ بو کسی ایک محاذ کسی ایک سرحد یا کسی ایک قوم تک محدود نہیں رہی یہ خبروں کی سرخیوں میں عالمی بیانیوں میں ہر گفتگو میں شامل ہے اور اس کے غبار میں انسان کا اعتماد لرز رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگل کا قانون کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کی ثالثی پر بھارت کو خوشی منانی چاہیے : ششی تھرور
امن و امان کے نام پر جنگ
کرۂ ارض پر طاقت کے ایوانوں میں فیصلے ہو رہے ہیں اور امن قائم کرنے کے نام پر انسان انسان کو مار رہا ہے نجانے کتنے شہر، کتنے خواب، کتنی نسلیں اس بارود کا ڈھیر بن رہے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بھڑکتی ہوئی تازہ جنگ میں انسانیت کی سانسیں لرز رہی ہیں، ساحر نے کیا خوب کہا تھا، “جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے، جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی”۔
یہ بھی پڑھیں: فیروز خان کا اپنے ساتھ کام سے انکار کرنے والی اداکاراؤں کے ساتھ کام نہ کرنے کا اعلان
مسائل اور دکھوں کا بڑھتا ہوا سلسلہ
اس دوران دنیا کے مسائل اور دکھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ کہیں بھوک، کہیں بے گھری، کہیں ظلم اور کہیں خوف کے سائے ہیں۔ انسان اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے اور پھر حیران بھی ہو رہا ہے کہ دھواں کیوں بڑھ گیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی جگمگ میں دلوں کے اندھیرے اور بھی بڑھ رہے ہیں، ترقی کے شور میں انسان کی چیخیں دب رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے عمرہ کی سعادت حاصل کرلی، سیلاب متاثرین کے لئے خصوصی دعائیں
امید کی کرن
اور پھر ایسے میں ایک پھول کِھلتا ہے، ایک دھن بجتی ہے، ایک نغمہ ہوا میں تیرتا ہے، ایک شاعر لفظوں میں امید بُنتا ہے۔ اسی امید کی بازگشت میں گلوکار نجم شیراز کی آواز تازہ ہوتی ہے۔ وہ گیت جو برسوں پہلے دِلوں میں اترا تھا آج کی دنیا میں پہلے سے زیادہ اچھا لگتا ہے،
یہ بھی پڑھیں: سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو یورپ سے پاکستان واپس لاکر قانون کے مطابق کارروائی کا فیصلہ
محبت کی سرگوشی
“پھول جہاں کِھلتے ہیں… آؤ وہاں، وہاں، وہاں چلیں”
وہ پھول کسی طاقت کے ایوان یا میزائل کے سائے میں نہیں کِھلتے وہ وہاں کِھلتے ہیں جہاں محبت ابھی زندہ ہے جہاں ایک دوسرے کے لیے جگہ باقی ہے، جب ایک ماں دعا کرتی ہے جب ایک بچہ ہنستا ہے جب ایک شاعر غزل کہتا ہے، جب ایک موسیقار ساز پر وہ دھن چھیڑتا ہے جو دل کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور جہاں انسانیت اپنی اصل صورت میں نظر آتی ہے۔ جہاں زندگی جنگوں کے شور سے نکل کر اپنے حقیقی حسن میں واپس آتی ہے، آؤ وہاں چلیں!。
یہ بھی پڑھیں: اس بار ملتان سلطانز کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ اسامہ میر نے بتادیا
نوٹ
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
تحریر بھیجنے کا طریقہ
اگر آپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ‘[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








