مشاورت کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اور سبسڈی کا نظام واضح کیا گیا، قومی قیادت کو آگاہ کیا گیا کہ اب حکومت کے لیے مہنگائی کا بوجھ اٹھانا مشکل ہو چکا ہے،عطااللہ تارڑ
پیٹرول کی قلت کی صورتحال
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک عوام خود کو محفوظ محسوس نہ کریں۔ خطے کے کئی ممالک میں پیٹرول کی قلت ہوگئی ہے تاہم موجودہ صورتحال میں بھی حکومت پاکستان نے ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں ہونے دی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کل سے سعودی عرب کا 2 روزہ دورہ کریں گے
پیٹرول کی قیمتوں میں تبدیلی
مشاورت کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اور سبسڈی کا نظام واضح کیا گیا، جبکہ قومی قیادت کو آگاہ کیا گیا کہ اب حکومت کے لیے مہنگائی کا بوجھ اٹھانا مشکل ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شادیاں کرنے والے فاروق ستار کا مردوں کو دوسری شادی نہ کرنے کا مشورہ
عوامی ریلیف کے اقدامات
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو سبسڈی ملنے سے عوام کو مزید ریلیف ملے گا۔ وزیراعظم نے پرائسنگ فارمولے پر سخت محنت کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی اور عوامی ریلیف کے لیے پیٹرول پر عائد لیوی میں 80 روپے تک کمی لائی گئی ہے۔ عوام کی مشکلات کا احساس ہے اور ریلیف کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور رنگ روڈ پر ٹول ٹیکس میں اضافہ
ڈیجیٹل سسٹم کا آغاز
ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے براہ راست کیش ٹرانسفر کا نظام تیار ہے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گی اور سفارتی محاذ پر بھی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قیدی سے ملاقات حال احوال کے لیے ہوتی ہے اگر اس سے انتشار اور تلخی بڑھے تو ریاست اور حکومت سخت فیصلے کرے گی،امیر حیدر ہوتی۔
حکومت کی کوششیں
عطااللہ تارڑ نے دعویٰ کیاکہ پورے ملک میں تیل کی قلت نہیں اور حکومت نے ایندھن کی مسلسل فراہمی کا بندوبست کر رکھا ہے۔ عام آدمی مشکل کا شکار ہو، یہ وزیراعظم کو برداشت نہیں، اسی لیے کفایت شعاری پر وزیراعظم روزانہ کی بنیاد پر وزارتوں سے رپورٹ طلب کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ گر کر تباہ
عالمی بحران کا اثر
عالمی بحران کے باوجود ملک میں پیٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ وزیراعظم نے کسانوں اور محنت کشوں کو تیل کی قلت سے بچانے کے لیے بروقت اقدامات کیے، enquanto ہمسایہ ممالک میں قلت اور لمبی قطاروں کے باوجود پاکستان میں صورتحال مستحکم رہی۔
سبسڈی اور بچت مہم
حکومت نے تین ہفتوں تک 129 ارب روپے کی سبسڈی دے کر عوام کو عالمی مہنگائی سے بچایا اور سرکاری سطح پر تیل کے اخراجات میں 40 فیصد تک کمی کا فیصلہ کرکے بچت مہم کا آغاز کیا گیا ہے。








