مشاورت کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اور سبسڈی کا نظام واضح کیا گیا، قومی قیادت کو آگاہ کیا گیا کہ اب حکومت کے لیے مہنگائی کا بوجھ اٹھانا مشکل ہو چکا ہے،عطااللہ تارڑ
پیٹرول کی قلت کی صورتحال
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک عوام خود کو محفوظ محسوس نہ کریں۔ خطے کے کئی ممالک میں پیٹرول کی قلت ہوگئی ہے تاہم موجودہ صورتحال میں بھی حکومت پاکستان نے ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں ہونے دی۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کے خلاف احتجاج کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج
پیٹرول کی قیمتوں میں تبدیلی
مشاورت کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اور سبسڈی کا نظام واضح کیا گیا، جبکہ قومی قیادت کو آگاہ کیا گیا کہ اب حکومت کے لیے مہنگائی کا بوجھ اٹھانا مشکل ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی بڑی تباہی سے بچ گیا، فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشت گرد گرفتار
عوامی ریلیف کے اقدامات
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو سبسڈی ملنے سے عوام کو مزید ریلیف ملے گا۔ وزیراعظم نے پرائسنگ فارمولے پر سخت محنت کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی اور عوامی ریلیف کے لیے پیٹرول پر عائد لیوی میں 80 روپے تک کمی لائی گئی ہے۔ عوام کی مشکلات کا احساس ہے اور ریلیف کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کو اپنی کمیٹی کے فیصلے قبول نہیں تو ان پر اعتماد کیوں کرتے ہیں؟ عرفان صدیقی
ڈیجیٹل سسٹم کا آغاز
ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے براہ راست کیش ٹرانسفر کا نظام تیار ہے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گی اور سفارتی محاذ پر بھی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ملتان سلطانز کو شکست دے دی
حکومت کی کوششیں
عطااللہ تارڑ نے دعویٰ کیاکہ پورے ملک میں تیل کی قلت نہیں اور حکومت نے ایندھن کی مسلسل فراہمی کا بندوبست کر رکھا ہے۔ عام آدمی مشکل کا شکار ہو، یہ وزیراعظم کو برداشت نہیں، اسی لیے کفایت شعاری پر وزیراعظم روزانہ کی بنیاد پر وزارتوں سے رپورٹ طلب کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایئرسیال نے اپنے بیڑے میں ایک اور Airbus A320 طیارہ شامل کرنے کا معاہدہ کر لیا
عالمی بحران کا اثر
عالمی بحران کے باوجود ملک میں پیٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔ وزیراعظم نے کسانوں اور محنت کشوں کو تیل کی قلت سے بچانے کے لیے بروقت اقدامات کیے، enquanto ہمسایہ ممالک میں قلت اور لمبی قطاروں کے باوجود پاکستان میں صورتحال مستحکم رہی۔
سبسڈی اور بچت مہم
حکومت نے تین ہفتوں تک 129 ارب روپے کی سبسڈی دے کر عوام کو عالمی مہنگائی سے بچایا اور سرکاری سطح پر تیل کے اخراجات میں 40 فیصد تک کمی کا فیصلہ کرکے بچت مہم کا آغاز کیا گیا ہے。








