کڑے احتساب کے بغیر کوئی قوم آگے بڑھ سکتی ہے نہ غربت ختم کی جا سکتی ہے، بیرون ملک پاکستانی بڑا اثاثہ ہیں انہیں ملکی معاملات میں شامل کرنا ہو گا
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 356
یہ بھی پڑھیں: بیوی نے مبینہ آشنا کے ساتھ ملکر ضعیف العمر شوہر کو قتل کرکے گھر میں دفنا دیا، خاتون کا اعتراف جرم
پاکستان کے مسائل کا حل ایک نظر میں
پاکستان میں عام انتخابات ہمیشہ متنازعہ رہے ہیں اور رہیں گے جب تک کہ الیکشن ریفارمز کے نتیجہ میں متناسب نمائندگی کا طریقہ کار اپنانے اور (EVM) الیکٹرونک ووٹنگ مشین کے استعمال کے لیے قانون سازی نہیں کی جائے گی۔
مندرجہ بالا طریقہ کار کے مطابق انتخابی عمل میں سے دولت کے استعمال کو دیس نکالا دیا جا سکے گا اور صاحب کردار اور صاحبانِ علم افراد کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں پہنچانا ممکن ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مینگورہ اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے
بیرون ملک پاکستانی اور ان کی شمولیت
بیرون ملک پاکستانی ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔ انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتے ہوئے انہیں ووٹ کا حق دینا، ملکی معاملات میں شامل کرنا اور اندرون ملک ان کی جائیدادوں کی حفاظت کے لیے خصوصی اہتمام کرنا ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت بڑھتی کشیدگی پر تجزیہ کار اور صحافی کیا کہتے ہیں؟
صوبائی تنظیم نو اور مقامی حکومت
انگریزی دور کے بنائے ہوئے چاروں بڑے صوبوں کو ختم کر کے ہر ڈویژن کو صوبائی درجہ دیا جائے۔ بااختیار مقامی حکومتوں کے بلدیاتی نظام کو مستقل خطوط پر ہمیشہ کے لیے تشکیل دیا جائے اور انہیں معطل کرنے کا صوبائی حکومتوں کا اختیار ختم کیا جائے۔ یونین کونسل، تحصیل، ضلع اور ڈویژن کی سطح پر ڈائریکٹ الیکشن کے ذریعے مقامی بااختیار خودمختار حکومتیں قائم کیے بغیر گڈ گورننس کا تصور ناممکنات میں سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چولستان جیپ ریلی خطے کے لیے اہم، ثقافتی رونقیں بحال ہوگئیں: سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب
زرعی اصلاحات
لاکھوں ایکڑ غیر آباد سرکاری زمینیں بے زمین زرعی تعلیم یافتہ کسانوں میں تقسیم کر دی جائیں اور ان سے مارکیٹ ریٹ پر ٹھیکہ وصول کیا جائے تاکہ متعلقہ مقامی حکومتوں کے وسائل میں اضافہ ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: چودھری شجاعت حسین نے ملاقات کے دوران جس محبت اور مروت سے اپنی دلی خواہش کا اظہار کیا تھا میری جگہ کوئی دوسرا ہوتا تو فوراً خوشنودی حاصل کرتا
نجی مالکیت کے حوالے سے اصلاحات
ریلوے، پی آئی اے، سٹیل مل اور گھاٹے میں چلنے والے تمام اداروں کے مالکانہ حقوق ان اداروں میں کام کرنے والے کارکنوں کے حوالے کر دئیے جائیں۔ کارکن دلجمعی سے ان اداروں کی کامیابی کے لیے کام کریں گے اور ان اداروں کو نفع بخش بنا کر ہر سال لاکھوں کروڑوں روپے ٹیکسوں کی شکل میں قومی خزانے میں داخل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا؟
احتساب اور کرپشن کا خاتمہ
کڑے احتساب کے بغیر کوئی قوم آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ ملک سے غربت ختم کی جا سکتی ہے۔ اگر میگا کرپشن کی سزا چین کی طرز پر سزائے موت مقرر کر دی جائے تو کرپشن کے ناسور کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زیادتی کا الزام لگانے والی خاتون عدالت میں اپنے پہلے بیان سے مکر گئی
حکومتی اصلاحات
آزاد خارجہ پالیسی اپنائی جائے اور اگر قرضے در قرضے حاصل کرنے کا سلسلہ نہ رکا، تو آئندہ کئی سالوں تک دیوالیہ ہونے کا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔ حکومتی ایوانوں اور محکمہ جات کے خرچے کم کئے جائیں۔
تجارتی تعلقات
ڈالر کمی کے پریشر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایران، افغانستان، چین اور انڈیا سے تجارت کا لین دین بارٹر سسٹم یا لوکل کرنسی میں کریں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








